انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 575

انوار العلوم جلد 23 575 اپنی روایات زندہ رکھو اور مستقل مائو تجویز کرو وہ مقدمہ دائر کر دیا اور کہا وارث ہم ہیں یہ لوگ زمین نہیں خرید سکتے اور دلیل یہ دی کہ یہ سید نہیں ہیں میراثی ہیں اور چونکہ یہ سید نہیں اس لئے یہ زمین نہیں خرید سکتے۔میراثیوں کا رسُوخ تھا اس لئے اُنہوں نے روپیہ دے کر گواہ پیش کرنے شروع کئے۔ان گواہوں میں ایک عورت بھی تھی جو زمیندار تھی لیکن تھی غریب۔میراثی اس کے پاس بھی گئے اور کہا تم ایک سو روپیہ لے لو اور یہ گواہی دو کہ ہم واقع میں سید ہیں۔اس عورت نے روپیہ تو لے لیا اور بظاہر گواہی کا وعدہ بھی کر لیا لیکن دل میں یہ فیصلہ کیا کہ و اُن کے خلاف گواہی دے گی اور عدالت میں کہے گی کہ یہ لوگ سید نہیں میراثی ہیں۔چنانچہ وہ عورت عدالت میں گئی۔مجسٹریٹ نے اس سے دریافت کیا تم بتاؤ کیا یہ لوگ فی الواقع سید ہیں؟ اس نے کہا ان لوگوں کے سیّد ہونے میں کوئی شبہ نہیں یہ تو پگے سید ہیں۔مجسٹریٹ کو قدرتی طور پر شبہ ہوا کہ اُس نے لگے کا لفظ کیوں استعمال کیا ہے۔اُس نے دریافت کیا تمہارے پگے سید کہنے کا کیا مطلب ہے ؟ اس عورت نے کہا باقی لوگ تو چار چار پانچ پانچ سو سال سے اس علاقے میں آئے ہوئے ہیں ان کے متعلق تو صحیح طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ وہ سید ہیں یا نہیں لیکن یہ لوگ تو پکے سید ہیں۔میں ذاتی طور پر ان کے سیّد ہونے کی گواہ ہوں کیونکہ یہ میراثی تھے اور ہمارے سامنے سٹیڈ بنے ہیں۔اس لئے ان کے سید ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔چنانچہ زمین اُن سے چھین لی گئی۔پس اگر روایات محفوظ ہوں تو قبائل اور اقوام کے متعلق تحقیقات کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔مثلاً ایک یہودی سے پوچھو تو چونکہ اس کی نسل محفوظ ہے اس لئے وہ فوراً یہ کہہ دے گا کہ اتنے سو سال پہلے میرے دادا کا نام ابراہیم (علیہ السلام) تھا لیکن ایک دوسری قوم والے سے پوچھو تو وہ یہ بھی نہیں بتا سکے گا کہ اُن کا پڑدادا کون تھا۔غرض کسی قوم کا پرانا ہونا اور اس کی روایات کا محفوظ ہونا افراد کے اندر بہادری اور جرات کی صفات پیدا کر دیتا ہے۔مثلاً راجپوت ہیں۔راجپوت ایک لڑنے والی قوم ہے۔اگر ہوشیار والدین ہوں گے تو وہ اپنے بچے سے ہمیشہ کہتے رہیں گے کہ دیکھو! تمہارے باپ دادا بڑے بہادر تھے، وہ ایسے لڑنے والے تھے ، وہ ایسی قربانی کرنے والے تھے،