انوارالعلوم (جلد 23) — Page 571
انوار العلوم جلد 23 571 اپنی روایات زندہ رکھو اور مستقل مائو تجویز کرو ے چلے۔ممکن ہے کہ کوئی نسل اور خاندان کسی ایسے فرد سے چلا ہو جو اچھے کیریکٹر کا مالک نہ ہو اور تم اس کے حالات کو سامنے رکھ کر کوئی اچھا نتیجہ اخذ نہ کر سکتی ہو۔لیکن جب بھی چلے گا کسی بڑے آدمی سے چلے گا۔خاندان اور نسل کسی چھوٹے اور ذلیل انسان سے بھی چل پڑتی ہے۔ایک بُزدل آدمی کے بھی 12 بچے ہو سکتے ہیں اور پھر ان 12 بچوں میں سے بھی ہر ایک کے 12 ،12 بچے ہو سکتے ہیں اور پھر ان کے آگے بچے وسکتے ہیں اور جب سو سال میں وہ دس بیس ہزار افراد تک جا پہنچتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو ایک الگ قوم سمجھنے لگ جاتے ہیں۔جب دس پندرہ ، ہیں یا پچاس افراد ہوتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے کی شناخت ہوتی ہے تو وہ ایک خاندان کہلانے لگ جاتا ہے اور جب جانے بوجھے لوگوں کی تعداد سینکڑوں تک جا پہنچتی ہے تو وہ قبیلہ بن جاتا ہے اور جب اُن کی تعداد ہزاروں تک جا پہنچتی ہے تو وہ ایک قوم بن جاتی ہے۔پس قوم کسی خاص چیز کا نام نہیں۔قوم محض نام ہے آپس میں تعلق رکھنے والے اور ایک دوسرے کو شناخت کرنے والے لوگوں کے گروہ کا۔جب جانے بوجھے لوگوں کی تعداد ہزاروں تک جا پہنچتی ہے تو وہ اپنے آپ کو ایک الگ قوم شمار کرنے لگ جاتے ہیں اور اپنا ایک نام رکھ دیتے ہیں۔جب اس نام کی قوم کا آدمی دوسرے کو چلتا پھر تامل جاتا ہے تو وہ اس سے چمٹ جاتا ہے کہ اچھا آپ بھی فلاں قوم میں سے ہیں! میں بھی اسی قوم میں سے ہوں۔مثلاً ایک پٹھان کو کوئی اور پٹھان مل جائے تو وہ کہے گا اچھا آپ پٹھان ہیں! میں بھی پٹھان ہوں۔یہی دوسری قوموں کا حال ہے۔غرض اسی طرح لوگ اکٹھے ہوتے جاتے ہیں اور اپنے آپ کو ایک الگ قوم کہنا شروع کر دیتے ہیں۔پس ضروری نہیں کہ کسی قوم کی ابتداء کسی بڑے آدمی سے ہوئی ہو۔مسلمانوں اور ہندوؤں کی بعض قومیں ایسی دیکھی گئی ہیں جو ابتداء میں بعض معمولی آدمیوں سے چلی ہیں بلکہ بعض قو میں ڈاکوؤں سے چلی ہیں۔سرگودھا اور جھنگ کے ضلعوں کے بعض قبیلے ایسے ہیں کہ اگر اُن کے ناموں کی تحقیق کی جائے تو پتہ لگتا ہے کہ کسی وقت ان کا مورث اعلیٰ ڈاکو تھا۔اب اگر کسی ڈاکو کی اولاد سینکڑوں یا ہزاروں تک