انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 501

انوار العلوم جلد 23 501 تحقیقاتی کمیشن کے سات سوالوں کے جوابات بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نَصَلَّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ تحقیقاتی کمیشن کے سات سوالوں کے جوابات (محررہ 29۔اکتوبر 1953ء) سوال نمبر 1: جو مسلمان مرزا غلام احمد صاحب کو نبی بمعنی ملہم اور مامور من اللہ نہیں جوار مانتے کیا وہ مومن اور مسلمان ہیں؟ ومسلم “ اور ”مومن“ قرآن مجید کے محاورات کو دیکھتے ہوئے دو الگ الگ معنے رکھتے ہیں۔مسلم “ نام اُمتِ محمدیہ کے افراد کا ہے اور ”ایمان“ دراصل اس روحانی اور قلبی کیفیت کا نام ہے جس کو کوئی دوسرا جان نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ ہی اس سے واقف ہوتا ہے۔جہاں تک لفظ ”مسلم“ کا تعلق ہے قرآن کریم کی آیت هُوَ سَشْكُمُ الْمُسْلِمینَ 1 کے مطابق امت محمدیہ کا ہر فرد مسلم کہلانے کا مستحق ہے۔اس تعریف کی تاکید اس حدیث صحیح سے بھی ہوتی ہے کہ "مَنْ صَلَّى صَلَوتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَ أَكَلَ ذَبِيحَتَنَافَذَالِکَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةَ اللَّهِ وَ ذِمَّةً رَسُوْلِهِ۔2 یعنی جو شخص بھی ہمارے قبلہ (یعنی کعبہ) کی طرف منہ کر کے مسلمانوں کی سی نماز پڑھے اور مسلمانوں کا ذبیحہ کھائے پس وہ مسلمان ہے جس کو خدا اور اس کے رسول کی حفاظت حاصل ہے۔باقی رہا ”مومن سو کسی کو مومن قرار دینا در حقیقت صرف خدا تعالیٰ کا کام ہے۔عام اصطلاح میں ”مسلم “ اور ”مومن ایک معنوں میں استعمال ہو جاتے ہیں لیکن در حقیقت ”مومن خاص ہے اور مسلم “ عام۔پس ہر مومن ”مسلم “ضرور ہو گا لیکن مسلم کا ”مومن “ ہو ناضروری نہیں۔ہر 66