انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 492

انوار العلوم جلد 23 492 نوجوانوں میں لیڈر شپ کی اہلیت کی اہمیت نکالیں کہ جس سے یہ مخالفتیں آپ ہی ختم ہو جائیں۔اگر تم سوچتے تو تمہارے سامنے خود راستے کھل جاتے۔ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اپنی اپنی جگہ غور و فکر کی عادت ڈالے اور محض دوسروں کے غور و فکر پر تکیہ نہ کرے۔“ جو اس کی بیداری غور و فکر کی عادت پیدا کرنے کے طریقوں پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے حضور نے بچپن ہی سے تربیت کرنے اور بالخصوص حواس کو بیدار رکھنے کی اہمیت پر بہت زور دیا اور اس ضمن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زریں ہدایات نیز آئمہ کرام اور شاہانِ اسلام کے سبق آموز واقعات پیش کرنے کے بعد حضور نے واضح فرمایا کہ اگر حواس بیدار ہوں تو انسان بہت سے خطرات سے بیچ کر اپنے لئے ترقی کے راستے پیدا کر سکتا ہے۔اس ضمن میں حضور نے سوچنے کی عادت ڈالنے کی طرف پھر توجہ دلائی اور فرمایا:۔” باو قار طریق پر سوچنے اور غور کرنے کی عادت ڈالو تاکہ تم میں ایسی روح اور جذبہ پیدا ہو جائے کہ تم وقت آنے پر بڑی سے بڑی ذمہ داری اُٹھا سکو۔کام کرنے کا جذبہ قوم کو اُبھار دیتا ہے۔پھر کسی کے مرنے یا فوت ہونے سے حوصلے پست نہیں ہوتے۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ میں غور و فکر کی عادت پیدا کر کے ان میں جذبہ عمل بھر دیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ان میں کسی کے مرنے یا فوت ہونے سے کبھی خلا پیدا نہیں ہوا۔ہر موقع پر کوئی نہ کوئی لیڈر آگے آتا رہا اور مسلمان اس کی قیادت میں منزل بہ منزل کامیابی و کامرانی کی طرف بڑھتے رہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابو بکر نے آگے آکر خلاء کو پورا کر دیا اور قوم میں پست ہمتی قطعاً پیدا نہ ہونے دی۔آپ نے اس موقع پر صحابہ مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔اگر کوئی شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خدا سمجھتا تھا تو وہ سُن لے کہ اس کا خدا فوت ہو گیا لیکن جو اسی حی و قیوم ہستی کو خد امانتا ہے کہ جس نے حمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا تھا تو اس کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ زندہ ہے اور اس پر کبھی موت وارد نہیں ہوتی۔2 کو