انوارالعلوم (جلد 23) — Page 491
انوار العلوم جلد 23 491 نوجوانوں میں لیڈر شپ کی اہلیت کی اہمیت ظالم نہیں کہ وہ کسی کی کوششوں کو رائیگاں جانے دے۔سوال پیدا ہو گا خدا نے ابراہیم علیہ السلام کی کوششوں کو کیوں بے نتیجہ نہ رہنے دیا؟ اس نے نوح علیہ السلام کی کوششوں کو کیوں بے نتیجہ نہ رہنے دیا؟ اس نے موسیٰ علیہ السلام کی کوششوں کو کیوں بے نتیجہ نہ رہنے دیا؟ اس نے بدھ کی کوششوں کو کیوں بے نتیجہ نہ رہنے دیا؟ اس نے رامچندر کی کوششوں کو کیوں بے نتیجہ نہ رہنے دیا؟ صاف بات ہے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری کو اس طرح ادا کیا کہ جو ادا کرنے کا حق تھا۔پس ایسی صورت میں آپ کو اپنی کوششوں کو تیز کرنا چاہئے نہ یہ کہ آپ دل کو تسلی دے کر بیٹھے رہیں۔یہ کہنا کہ ہم اس لئے ناکام رہ گئے کہ نتیجہ خدا کے ہاتھ میں تھا بالکل غلط ہے۔ایسا کہنے والا شرارتی ہے۔اگر چہ یہ بات صحیح ہے کہ نتیجہ خدا کے ہی ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن خدا بھی کسی وجہ سے نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ہمارا خدا بھی آئینی خدا ہے۔وہ ڈکٹیٹر نہیں۔وہ ہر چیز حکمت کے ساتھ کرتا ہے۔وہ یہ نہیں کہتا کہ ہم دیں نہ دیں ہماری مرضی۔وہ کہتا ہے کہ اگر تم استحقاق پیدا کر لو تو ہم انعام ضرور دیں گے اور اگر نہ دیں تو ہم ظالم۔صحیح طریق پر کام لو تو کوئی وجہ تو نہیں کہ ہم انعام نہ دیں۔نتیجہ بے شک خدا کے ہاتھ میں ہے لیکن اس نے نتیجے کو ہمارے تابع کرنے کے لئے کچھ قانون بنا دیئے ہیں۔خود فیصلہ کرنا بندے کے اختیار میں نہیں لیکن خدا کے ہاتھ کو پکڑ کر فیصلہ کروانا بندے کے ہاتھ میں ہے“۔ایک اور مثال غور و فکر کی عادت سے کام لینے کے طریق واضح کرتے ہوئے حضور نے ایک اور مثال دی۔فرمایا:- اگر تم یہ سوچو کہ دُنیا ہماری مخالفت کرتی ہے تو ساتھ ہی تمہیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ دُنیا مخالفت کیوں کرتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ سچی تحریکوں کی مخالفت ہوتی ہی آئی ہے۔یہ ہے صحیح لیکن ساتھ ہی تمہیں یہ سوچنا پڑے گا کہ کیا یہ مخالفتیں ہمیشہ ہمیش جاری رہتی ہیں ؟ کیا پہلوں نے ان مخالفتوں کو دبانے اور کم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں نکالا تھا؟ کیا آدم، نوح، ابراہیم اور موسیٰ و عیسی نے ان مخالفتوں سے ہار مان لی تھی؟ اگر انہوں نے ہار نہیں مانی تھی تو ہم کیوں ہار مانیں ؟ اور کیوں نہ ایسا رستہ