انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 490

انوار العلوم جلد 23 490 نوجوانوں میں لیڈر شپ کی اہلیت کی اہمیت بلند پروازی اس کو کہتے ہیں کہ انسان اپنی موجودہ حالت سے اوپر ایک مقصد معین کرے۔پھر یہ سوچے کہ یہ مقصد کن ذرائع سے حاصل ہو سکتا ہے۔جب ذرائع اپنی معین صورت میں سامنے آجائیں تو پھر اس امر پر غور کرے کہ کن طریقوں سے یہ ذرائع فراہم ہو سکتے ہیں۔جب کوئی شخص یہ طریقے معلوم کر کے مصروفِ عمل ہو جاتا ہے تو ذرائع خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں اور بالآخر وہ مقصد مل جاتا ہے جس کے لئے یہ سب کوشش ہو رہی تھی۔اگر ایسا ظہور میں نہیں آتا تو وہ بلند پروازی نہیں خام خیالی یا واہمہ ہے۔ایسا شخص ہمیشہ خوابوں کی دُنیا میں اُلجھا رہتا ہے۔پس ہماری جماعت کے نوجوانوں کو غور و فکر اور بلند پروازی کی عادت ڈالنی چاہئے“۔غور و فکر کی عادت سے کام لینے کا طریق اس مرحلہ پر حضور نے مثالیں دے دے کر واضح کیا کہ غور و فکر سے کیونکر کام لیا جا سکتا ہے۔چنانچہ حضور نے فرمایا :۔مثلاً آپ ” مصلح“ میں امریکہ یا ہالینڈ کے مشن کی رپورٹ پڑھتے ہیں۔آپ کے لئے اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ آپ اسے پڑھ کر وہاں کے حالات سے باخبر ہو جائیں بلکہ رپورٹ میں نو مسلموں کی تعداد پڑھتے ہی آپ کو سوچنا چاہئے کہ اس ملک میں بیعت کی رفتار کیا ہے ؟ وہاں کب سے مشن قائم ہے اور اس عرصہ میں کتنے آدمیوں نے بیعت کی؟ بیعت کی رفتار نکالنے کے بعد آپ اندازہ لگائیں کہ اس حساب سے وہ ملک کتنے عرصہ میں جاکر مسلمان ہو گا اور اسی طرح ہم کتنے عرصہ میں توقع کر سکتے ہیں کہ ساری دنیا اسلام کو قبول کر لے گی۔اگر بیعت کی رفتار کے مطابق آپ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اس ملک کے مسلمان ہونے میں سینکڑوں کیا ہزار سال لگ جائیں گے جیسا کہ بظاہر حالات نظر بھی آرہے ہیں تو پھر آپ کو سوچنا چاہئے کہ تبلیغی مساعی کو کیونکر مثمر بثمرات بنایا جاسکتا ہے۔یہاں یہ کہہ کر آپ اپنے دل کو تسلی نہیں دے سکتے کہ کوشش کرنا ہمارا کام ہے نتیجہ خدا کے ہاتھ میں ہے اور اگر خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوتا تو اس میں ہمارا کیا دخل ہے؟ اس میں شک نہیں نتیجہ پیدا کرنا اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے لیکن خدا