انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 444

انوار العلوم جلد 23 444 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اَوِ الْأَرَيَةَ بَلْ لَا نَذْكُرُ مِنْ سُفَهَاءِ هَذِهِ الْأَقْوَامِ إِلَّا الَّذِينَ اشْتَهَرُوْا فِي فَضَوْلِ الْهَدْرِ وَ الْإِعْلَانِ بِالسَّيِّئَةِ وَالَّذِي كَانَ هُوَ نَقِيُّ الْعِرْضِ عَفِيفُ اللَّسَانِ فَلَا نَذْكَرَهُ إِلَّا بِالْخَيْرِ وَ نُكْرِمُهُ وَ نُعِزُهُ وَنُحِبُّهُ كَالْإِخْوَانِ“ 415 یعنی ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ہم نیک علماء کی ہتک اور مہذب شرفاء کی عیب چینی کریں۔خواہ وہ مسلمان ہوں یا مسیحی ہوں یا ہندو ہوں بلکہ ہم اُن اقوام میں سے جو بیوقوف ہیں، اُن کے لئے بھی سخت کلامی نہیں کرتے۔ہم صرف اُن کے متعلق سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں جو بیہودہ گوئی میں مشہور ہیں اور بد کلامی کی اشاعت جن کا کام ہے لیکن وہ جو ان باتوں سے پاک ہیں اور اُن کی زبان گند سے آلودہ نہیں ہم ایسے لوگوں کا ذکر ہمیشہ نیکی سے کرتے ہیں اور اُن کی عزت کرتے ہیں اور اُن کو بلند درجہ پر بٹھاتے ہیں اور اُن سے اپنے بھائیوں کی طرح محبت کرتے ہیں۔پھر لکھا ہے:- ”ہماری اس کتاب میں اور رسالہ ”فریادِ درد“ میں وہ نیک چلن پادری اور دوسرے عیسائی مخاطب نہیں ہیں جو اپنی شرافت ذاتی کی وجہ سے فضول گوئی اور بد گوئی سے کنارہ کرتے ہیں اور دل دُکھانے والے لفظوں سے ہمیں دُکھ نہیں دیتے اور نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے اور نہ اُن کی کتابیں سخت گوئی اور توہین سے بھری ہوئی ہیں۔ایسے لوگوں کو بلاشبہ ہم عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وہ ہماری کسی تحریر کے مخاطب نہیں ہیں بلکہ صرف وہی لوگ ہمارے مخاطب ہیں، خواہ وہ بگفتن مسلمان کہلاتے یا عیسائی ہیں جو حد اعتدال سے بڑھ گئے ہیں اور ہماری ذاتیات پر گالی اور بد گوئی سے حملہ کرتے یا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ بزرگ میں توہین اور ہتک آمیز باتیں منہ پر لاتے اور اپنی کتابوں میں شائع کرتے ہیں۔