انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 39

انوار العلوم جلد 23 39 احرار کو چیلنج کرنا چاہتا ہوں۔جیسا کہ میں اُو پر لکھ چکا ہوں انجمن کی کوئی زمین میرے قبضہ میں نہیں۔انجمن کی جو زمین میرے نام پر خریدی گئی ہے وہ بھی انجمن کے قبضہ میں ہے اور اس پر نہ لسی نے اعتراض کیا ہے کہ میں انجمن کی خریدی ہوئی جائداد پر قبضہ کر رہا ہوں۔نہ اس اعتراض میں کوئی وقعت ہے اور نہ میں اس اعتراض سے ڈرتا ہوں۔انجمن کے ریکارڈ میں تمام وہ زمینیں درج ہیں جو اُس نے خریدیں ،انجمن کے خزانے میں وہ رقوم درج ہیں جو اس نے اس زمین پر خرچ کیں اور انجمن کے بینک اکاؤنٹ میں بھی وہ آمد نہیں درج ہیں جو ان زمینوں سے ہوئی ہیں اور وہ خرچ بھی درج ہیں جو ان زمینوں پر ہوئے۔اسی طرح جو زمینیں میں نے خریدی ہیں اُن کی پہلی قسط ادا کرنا بھی میری طرف سے ثابت ہے۔اُن کی دوسری قسط ادا کرنا بھی میری طرف سے ثابت ہے اور اُن کی تیسری قسط ادا کرنا بھی میری طرف سے ثابت ہے۔یہاں تک کہ آخری قسط ادا کرنا بھی میری طرف سے ثابت ہے۔پس کوئی صحیح الدماغ آدمی اعتراض ہی کس طرح کر سکتا ہے اور اگر کوئی شخص جوش جنون میں اعتراض کرے تو مجھے اس سے گھبر اہٹ ہی کیا ہو سکتی ہے۔ریکارڈ موجود ہے۔میں جماعت کے سامنے رکھ دوں گا۔ان حالات کے بیان کرنے کے بعد اب میں احرار کو چیلنج دیتا ہوں کہ اگر اُن کے اندر کوئی تخم دیانت ہے تو وہ مندرجہ ذیل طریقہ سے مجھ سے اس اعتراض کا تصفیہ کر لیں۔اوّل یہ کہ ایک نمائندہ جو مستقل طور پر دیوانی کی حجی پر کام کر چکا ہو یا کام کر رہا ہو میں مقرر کر دوں گا اور ایک اسی قابلیت کا آدمی وہ مقرر کر دیں۔یہ دونوں آدمی مل کر ایک تیسر ا ثالث اپنے ساتھ ملالیں جس میں یہی صفات پائی جائیں۔یعنی وہ مستقل طور پر سب جی یا اس سے اوپر کے کسی عہدہ پر رہ چکا ہو یا اس وقت اس عہدہ پر ہو۔میں تین کا پیاں ان تینوں ثالثوں کو دے دوں گا۔جس میں یہ عبارت درج ہو گی کہ :- میں مرزا بشیر الدین محمود احمد اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ یہ زمین جس کی