انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 431

انوار العلوم جلد 23 431 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ (ب) تاج العروس میں جو عربی لغت کی مشہور کتاب ہے لکھا ہے کہ البغى مطلق باندی کو کہتے ہیں چاہے وہ بد کار نہ ہو۔یعنی اس لفظ میں بدکاری کا مفہوم داخل نہیں ہے۔علاوہ ازیں اس تاج العروس میں بغنی کے معنی متکبر انسان کے بھی ہیں۔پھر قاموس اور صراح میں جو عربی لعنت کی کتابیں ہیں لکھا ہے:۔يُقَالُ لِلْأَمَةِ بَغْيَ وَلَا يَرَادُ بِهِ الشَّتَمَ وَ الْبَغَايَا أَيضاً الطَّلَائِعُ الَّتِي تَكُوْنَ قَبْلَ وَرَوْدِ الْجَيْشِ“۔یعنی جب باندی کے لئے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد گالی نہیں ہوتی اور بغایا اُس ہر اول دستے کو کہتے ہیں جو مقدمۃ الجیش یعنی لشکر کے آگے ہو آتے ہیں۔اندریں صورت ”ذرية البغایا“ کے معنے ایسے لوگ ہوں گے جو گالی گلوچ اور تکفیر بازی اور معاندت میں عام لوگوں سے پیش پیش ہیں۔(ج) تاج العروس میں ہے کہ ”بغی“ کا لفظ بد کار اور غیر بد کار دونوں پر بولا جاتا ہے۔اندریں صورت کیا ضرور ہے کہ اس کا ترجمہ ”بد کار “ ہی لیا جائے۔خصوصاً جبکہ بزرگانِ سلف کا یہ طریق رہا ہے اور یہی طریقہ از راہ احتیاط بھی مناسب ہے کہ اگر ایک لفظ کے دو معنے ہو سکتے ہوں تو انسب یہی ہے کہ وہ معنی لئے جائیں جو نرمی کے زیادہ قریب ہوں۔مثال کے طور پر قرآن مجید کی آیت وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَافٍ مَّهِيْنٍ هَمَّازٍ مَشَاءٍ بِنَمِيمٍ مَنَاعِ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ عُتُلٍ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ - 396 پس دشمن اسلام کے لئے لفظ زنیم استعمال ہوا ہے۔اس لفظ کے معنی حرامزادہ بھی ہیں اور اُس شخص کے بھی جو اُس کی طرف منسوب ہو تا ہو جس میں سے وہ در حقیقت نہ ہو۔1- چنانچہ لعنت کی کتاب الفرائد الدریہ میں زنیم کے معنی لکھے ہیں ”Ignoble“۔المنجد " لعنت کی کتاب) میں اس کے معنی ”الدنی الاصل “ یعنی بد اصل لکھے ہیں۔-3- تفسیر کبیر مصنفہ حضرت امام رازی "جلد 8 صفحہ 265 مطبوعہ مصر میں لکھا ہے:۔