انوارالعلوم (جلد 23) — Page 430
انوار العلوم جلد 23 430 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ کہ مخالفین را بسوئے دین روشن خدا دعوت کنم۔بنا بر آں بسوئے ہر مخالفے مکتوبے فرستادم و جوان و پیر را ندائے قبولِ اسلام داده ام “۔مجلس عمل کی پیش کردہ اور مندرجہ بالا دونوں عبارتوں کا یکجائی طور پر مطالعہ کرنے سے صاف ظاہر ہے کہ اوّل الذکر عبارت میں لفظ ”دعوت“ سے مراد ”دعوتِ اسلام “ ہی ہے نہ کہ اپنے مخصوص مَا بِهِ النَزَاع دعاوی کو قبول کرنے کی دعوت۔ذُريَّةُ الْبَغَايَا کا صحیح مطلب 6- جیسا کہ اوپر عرض کیا جا چکا ہے ذُرِّيَّةً الْبَغَايَا“ کے معنی ”ہدایت سے دُور “ اور ”سرکش انسان کے ہیں۔شعر ہے۔(الف) خود حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اس کا یہی ترجمہ کیا ہے۔آپ کا ایک أَذَيْتَنِي خُبْثًا فَلَسْتُ بِصَادِقٍ إِنْ لَمْ تَمْتُ بِالْخِزْيِ يَا بْنَ بِغَاءِ اس شعر میں ابن بغاء کا لفظ استعمال ہوا ہے۔آپ اپنے اس شعر کا مندرجہ ذیل ترجمہ کرتے ہیں:۔”خباثت سے تو نے مجھے ایذا دی ہے۔پس اگر تُو اب رُسوائی سے ہلاک نہ ہوا تو میں اپنے دعویٰ میں سچا نہ ٹھہروں گا۔اے سرکش انسان“ 395 عرض کرنا ضروری ہے کہ مندرجہ بالا ترجمہ خود حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا اپنا کیا ہوا ہے جو بہر حال محجبت ہے۔کتاب آئینہ کمالات اسلام کی عربی عبارت کا ترجمہ خود حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا کیا ہوا نہیں بلکہ مولانا عبد الکریم سیالکوٹی کا ہے۔اس لئے وہ بطور سند کے پیش نہیں ہو سکتا۔پس حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے نزدیک ذریۃ البغایا“ کا مطلب ”سرکش انسان “ ہو گا، نہ کہ کنجریوں کی اولاد۔