انوارالعلوم (جلد 23) — Page 389
انوار العلوم جلد 23 389 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اور مجھے اس کے طریق چال چلن میں بغاوت کی نشانیاں دکھائی دیتی ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ ایسے ایسے کام کرے گا اور مخالفوں میں سے ہے “۔337۔پس حکومت سے مخالفین کی یہ شکایتیں اس امر کا موجب ہوئیں کہ بانی سلسلہ احمدیہ ان کو ر ڈ کریں اور انگریزی حکومت کا مذہبی آزادی دینے کی وجہ سے بار بار شکریہ ادا کریں۔سوال نمبر 6 شق دوئم متعلق مسئلہ جہاد اس کے بعد ہم جہاد کے مسئلہ کو لیتے ہیں۔یہ مسئلہ بھی اس رنگ میں پیش کیا جاتا ہے کہ گویا بانی سلسلہ احمدیہ نے انگریزوں کو خوش کرنے یا اُن کی مدد کے لئے اس کو پیش کیا تھا۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ جس وقت بانی سلسلہ احمدیہ نے دعویٰ کیا تھا اُس وقت جہاد کا مسئلہ صرف انگریزوں کے لئے ہی مفید نہیں تھا بلکہ فرانس، سپین، روس اور جرمنی کے لئے بھی مفید تھا جن کے ماتحت بہت سے اسلامی علاقے تھے۔اُس وقت انگریزوں اور اُن قوموں کا آپس میں اختلاف تھا۔پس یہ بات عقل میں نہیں آسکتی کہ انگریز کسی شخص سے ایسی بات کہلواتے جو صرف اُن کو فائدہ نہ پہنچاتی ہو بلکہ اُن کے دُشمنوں کو بھی فائدہ پہنچاتی ہو۔اگر انہیں اپنی تائید کروانی ہوتی تو وہ محض اس رنگ میں ہونی چاہئے تھی کہ انگریزوں کے ہمارے ملک پر بڑے احسانات ہیں اس لئے انگریزوں سے جہاد نہیں کرنا چاہئے لیکن حضرت مرزا صاحب نے تو اپنی کتابوں میں اس بات پر زور دیا ہے کہ چونکہ ساری دُنیا میں اب مذہب کے لئے جنگیں نہیں کی جاتیں جس طرح کہ پہلے کی جاتی تھیں اس لئے اس زمانہ میں جہاد جائز نہیں اور انگریز یہ بات کبھی کہلواہی نہیں سکتے تھے۔اُن کا فائدہ تو اس بات میں تھا کہ روسیوں یا جرمنوں یا فرانسیسیوں یا سپینش سے تو جہاد جائز ہوتا لیکن اُن سے جہاد جائز نہ ہوتا۔