انوارالعلوم (جلد 23) — Page 375
انوار العلوم جلد 23 375 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ صحابہ کرام نے حضور علیہ السلام کے ارشاد کے ماتحت حبشہ کی عیسائی حکومت کے زیر سایہ وفادار شہریوں کی حیثیت سے برسوں امن پسندانہ زندگی بسر کی۔اُن مسلمان صحابہ میں حضرت عثمان، حضرت جعفر ( جو حضرت علی کے بھائی تھے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ، حضرت ام المؤمنین ام سلمہ، حضرت اسماء زوجہ حضرت جعفر، حضرت عبد الرحمن ابن عوف، حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح جیسے جلیل القدر صحابہ اور صحابیات شامل ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ان صحابہ کو پانچویں سال نبوت میں ارشاد فرمایا:- تم ملک حبش میں چلے جاؤ تو بہتر ہے۔کیونکہ وہاں کا بادشاہ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور وہ صدق اور راستی کی سر زمین ہے“۔321 غرض کہ ایسی حکومت کی اطاعت کرنا جو مذہبی آزادی میں مداخلت نہ کرتی ہو مسلمانوں کا مذہبی فرض ہے۔اندریں حالات اِسی اصول کے ماتحت مسلمانانِ ہند کا بھی یہی مذہبی فرض تھا کہ وہ حکومت انگریزی کی اطاعت کرتے۔جب تک کہ وہ حکومت اُن کے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں مزاحم نہ ہوتی۔پس جماعت احمدیہ نے اگر اس اسلامی تعلیم پر عمل کیا تو یہ کیونکر محل اعتراض ٹھہر سکتا ہے؟ ایک سوال لیکن یہاں پر ایک ضروری سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ انگریزی حکومت کی اطاعت تو مسلمانانِ ہند نے بھی کی جن میں مجلس عمل کے ارکان بھی شامل تھے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اُن کا یہ عمل ان کے نزدیک اسلامی تعلیم کے مطابق تھا یا مخالف ؟ اگر اسلامی تعلیم کے مخالف تھا تو پھر مانا پڑے گا کہ اُن کی زندگی انگریزی حکومت کے صد سالہ دور میں منافقانہ زندگی تھی اور اگر اسلامی تعلیم کے مطابق تھا اور یہی درست ہے تو پھر جماعت احمدیہ پر اعتراض بے معنی ہے۔بطور اعتراض پیش کردہ عبارتیں اس سلسلہ میں تبلیغ رسالت جلد 7 صفحہ 7 اور ضمیمہ کتاب البریہ صفحہ 9