انوارالعلوم (جلد 23) — Page 334
انوار العلوم جلد 23 334 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ - 219 جب مسیح ابن مریم کا ذکر تمثیلی طور پر کیا جاتا ہے تو تیری قوم بر امناتی ہے۔اس میں اسی طرف اشارہ ہے کہ مسلمانوں میں مسیح کی دوبارہ آمد تمثیلی طور پر بیان کی جاتی تھی اور کفار اس پر چڑتے تھے کہ مسیح کو تو اتنی اہمیت دے دی کہ کہا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ آئے گا اور ہمارے معبودوں کو جھوٹا کہا جاتا ہے اور چونکہ ابنِ عباس اور امام مالک کا قول ہے کہ حضرت عیسی فوت ہو چکے ہیں اس لئے اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ لوگ یہی سمجھتے تھے کہ آنے والا مسیح اسی اُمت میں سے ہو گا اور یہ صرف ہمارا قیاس ہی نہیں بلکہ اس کا ثبوت تاریخ سے بھی ملتا ہے۔چنانچہ خریدۃ العجائب جو سراج الدین ابی حفص عمرو بن الوردی کی کتاب ہے اور جس کے متعلق علامہ احمد بن مصطفی المعروف بطاش کبری زادہ نے جو جیو گریفی کا بہت بڑا ماہر سمجھا جاتا ہے اپنی کتاب مفتاح السعادہ جلد اوّل صفحہ 322 پر لکھا ہے: کہ یہ کتاب علامہ قزوینی کی کتاب عجائب المخلوقات سے بھی زیادہ اچھی ہے“۔اس کتاب کے صفحہ 214 پر لکھا ہے کہ :- " قرآن کریم میں جو یہ ذکر ہے کہ عیسٰی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اُٹھا لیا اس بارہ میں مسلمانوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ان میں سے اکثر تو یہ کہتے ہیں اور انہی کی بات زیادہ سچی ہے کہ عیسی علیہ السلام بعینہ دوبارہ آئیں گے لیکن ایک اور جماعت مسلمانوں کی یہ کہتی ہے کہ عیسیٰ کے نزول سے مراد یہ ہے کہ ایک ایسا شخص ظاہر ہو گا جو حضرت عیسیٰ سے اپنی بزرگی اور اپنے کمالات میں مشابہہ ہو گا۔جس طرح کہ ایک نیک آدمی کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ فرشتہ ہے اور شریر آدمی کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ شیطان ہے۔ان دونوں کو بطور تمثیل کے یہ نام دیئے جاتے ہیں اور یہ مراد نہیں ہوتی کہ سچ سچ شیطان آگیا یا فرشتہ