انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 315

انوار العلوم جلد 23 315 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اور بعض صلحاء امت کا یہ خیال تھا کہ مسیح ناصری دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور نبی کی حیثیت میں آئیں گے۔پنجم: آیت خاتم النبیین کے معنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور بہت سے صلحاء کے نزدیک قطعی طور پر یہ ہیں کہ ہر قسم کا بابِ نبوت اس آیت سے مسدود نہیں۔ششم: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم معین صورت میں فرماتے ہیں کہ اس امت میں سے کسی تابع نبی کا ہونا نا ممکن نہیں۔چنانچہ آپ نے اپنے بیٹے ابراہیم کے متعلق ہفتہ فرمایا کہ اگر وہ زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔صلحاء امت میں سے بعض اکابر زمانہ صحابہ سے لے کر بانی سلسلہ احمدیہ کے زمانہ تک اس بات کے قائل رہے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں سے ایسے لوگ ظاہر ہوتے رہیں گے جو نبوت عامہ یعنی بغیر شریعت کے نبوت پائیں گے۔ہشتم: کئی اکابر علماء امت خصوصاً دیو بندیوں اور اس زمانہ کے حنفیوں کے رہنما اس بات کے قائل ہیں کہ گو امت محمدیہ میں سے نبی کا آنا ثابت نہیں لیکن اگر کوئی اُمت میں سے نبی آئے تو یہ ختم نبوت کی آیت کے خلاف نہ ہو گا اور اسلام کے لئے کسی خرابی یا ذلت کا موجب نہیں ہو گا۔اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ جماعت احمدیہ اور دوسرے مسلمانوں کا اختلاف صرف اسی بات میں ہے کہ آیا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی اُمت میں سے ظاہر ہو سکتا ہے یا نہیں۔در حقیقت جمہور مسلمان بھی اس بات کے قائل ہیں کہ ایک سابق نبی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ظاہر ہو گا اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اگر وہ نبی آیا تو وہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی نبی ہو گا اور آپ کے بعد بھی نبی ہو گا۔اس لئے لا نَبِیَ بَعْدَہ کے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہئیں بلکہ خاتم النبیین کہنا چاہئے۔پس ختم نبوت کے بعد کسی نبی کے آنے کے متعلق