انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 26

انوار العلوم جلد 23 26 پاکستان میں قانون کا مستقبل ذرا بھی پہلو تہی کرتا ہے تو وہ در حقیقت اسلام سے دُور جاتا ہے۔پاکستان کے قوانین بناتے ہوئے ہمیں خاص خیال رکھنا ہو گا کہ :- الف: تعلیم اسلام کی رُوح ہمیشہ ہمارے مد نظر رہے۔ب: ہمارے قوانین فطرت انسانی کے ساتھ کامل مطابقت رکھتے ہوں۔ج: ہم ان وعدوں کو ہر لحاظ سے پورا کریں جو اقلیتوں سے کئے گئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کے مطابق ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔اب اگر حضور کا یہ ارشاد صحیح اور سچا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سچا کون ہو سکتا ہے تو پھر اسلام کے قوانین بھی انسانی فطرت کے خلاف نہیں ہو سکتے اور نہ ہی انسانی فطرت قوانین اسلام کے خلاف ہو سکتی ہے۔پس ہمارا یہ ایک مقدس فرض ہے کہ ہم مندرجہ بالا حدیث کو سامنے رکھیں اور اس حقیقت پر یقین رکھیں کہ اسلام نے جو کچھ سکھایا ہے فطرتِ انسانی کے عین مطابق ہے۔اگر اسلام کی تعلیم کا وہ حصہ جسے ہم انسانی فطرت کے خلاف سمجھتے ہیں واقعی انسانی فطرت کے خلاف ہے تو ظاہر ہے کہ ہم نے اس حصہ تعلیم کی رُوح کو اخذ نہیں کیا لیکن اگر ہم نے اسلامی تعلیم کو صحیح سمجھا ہے تو فطرت انسانی کبھی بھی اس کے خلاف نہیں ہو سکتی اور یقینا کہیں پر ہماری ہی غلطی ہو گی۔اس صورت میں ہمیں چاہئے کہ اس معاملہ پر زیادہ گہرے طور پر غور کریں اور مزید کوشش کر کے اصل حقیقت کو معلوم کریں۔اگر ہم اس نہایت ہی مضبوط اصل کو سامنے رکھیں گے تو ہم یقیناً بہت جلد صداقت کو پالیں گے اور اپنے ملک کے لئے بہترین قوانین بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔یہ صحیح ہے کہ ہم اپنے ملک کے ہر طبقہ یعنی مولویوں، مغربیت زدہ تعلیم یافتہ لوگوں، غریبوں اور امیروں کو پوری طرح مطمئن نہیں کر سکتے لیکن مندرجہ بالا دانشمندانہ اصول پر عمل کر کے ہم یقیناً انسانی فطرت کے تقاضوں کو پورا کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔میں دعا کرتا ہوں کہ پاکستان کے قوانین بنانے والوں اور ان پر عمل کرانے والوں کو ان کے وکیلوں کو اور قوانین کی کتابیں لکھنے والوں کو اور ان کے شارحین کو طور پر۔