انوارالعلوم (جلد 23) — Page 214
انوار العلوم جلد 23 214 تعلق باللہ مدت ہو گئی وہ تو گھر سے نکلتے ہی نہیں۔وہ بہت پریشان ہوا اور آخر دریافت حالات کے لئے اُن کے مکان پر پہنچا۔بیوی نے اُن سے کہا کہ آپ اُن کے اچھے دوست ہیں آپ نے خبر بھی نہیں لی کہ اُن کا کیا حال ہے وہ تو مرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔اسے سن کر بہت افسوس ہوا اور اس نے کہا کہ پردہ کروا دیں تاکہ میں خود اُن سے حال دریافت کر سکوں۔چنانچہ وہ اندر گیا دیکھا تو واقع میں استاد صاحب بڑے مضمحل اور کمزور ہو چکے تھے اور ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ رہ گئے تھے۔اُس نے پوچھا کہ آپ کو بیماری کیا ہے ؟ اُس نے جواب دیا کہ بیماری کی کچھ سمجھ نہیں آئی بہت علاج کروایا ہے مگر کوئی افاقہ نہیں ہوا۔اس نے کہا آخر کچھ تو بتائیے کہ یہ بیماری آپ کو شروع کس طرح ہوئی ہے ؟ اس نے کہا بات یہ ہے کہ جب میں کتابیں پڑھتا اور اُن میں محبت اور عشق کے واقعات دیکھتا تھا تو میرے دل میں بھی بار بار خیال آتا تھا کہ مجھے بھی محبت کرنی چاہیے مگر میں سمجھتا تھا کہ میری محبت کسی معمولی عورت سے نہیں ہو سکتی۔دنیا میں جو سب سے زیادہ حسین عورت ہو گی اُس سے میں محبت کروں گا۔چنانچہ ایک دن میں اپنی گلی میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص میرے پاس سے گزرا اور اُس نے ایک شعر پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ ایم عمر وایسی حسین عورت ہے کہ ساری دنیا اُس پر عاشق ہے۔میں نے کہا کہ بس عشق کرنا ہے تو ام عمر و سے ہی کرنا ہے۔چنانچہ میں نے اس سے محبت کرنی شروع کر دی۔اُس نے کہا یہ تو فرمائیے آپ نے ام عمرو کبھی دیکھی بھی تھی یا نہیں ؟ کہنے لگا میں نے دیکھی تو نہیں لیکن جب ساری دنیا اُس سے محبت کرتی تھی تو میں نے سمجھا کہ میں بھی اس سے کیوں نہ محبت کروں۔چنانچہ میں اپنی محبت اور عشق میں ترقی کرتا چلا گیا اور دل میں بار بار حسرت پیدا ہوتی تھی کہ اقم عمرو کا مجھے وصال حاصل ہو مگر مدتیں گزر گئیں اور ام عمرو کا کچھ پتہ نہ چلا۔ایک دن میں پھر اپنی گلی میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص گزرا اور اُس نے یہ شعر پڑھا کہ لَقَدْ مَرَ الْحِمَارُ بِأَمْ عَمْرٍو فَمَا رَجَعَتْ وَمَا رَجَعَ الْحِمَارُ کہ ام عمرو کو گدھا لے کر چلا گیا اور اس کے بعد نہ وہ کوئی اور نہ گدھا لوٹا۔میں نے سمجھ لیا