انوارالعلوم (جلد 23) — Page 13
انوار العلوم جلد 23 13 سب کا فرض ہے کہ وہ درس القرآن میں شامل ہوا کریں بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ سب کا فرض ہے کہ وہ درس القرآن میں شامل ہوا کریں ( فرمودہ 23 جون 1952ء بمقام ربوہ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- آپ لوگ جو اس وقت یہاں دُعا کے لئے جمع ہوئے ہیں تو کسی ایسی دُعا کے لئے جمع نہیں ہوئے جس کا ثبوت قرآن کریم سے ملتا ہو یا سنت سے ملتا ہو یا احادیث سے ملتا ہو بلکہ ایک ایسی دُعا کے لئے جمع ہوئے ہیں جو ہم میں صرف رسماً پیدا ہو گئی ہے یعنی قرآن کریم کے درس کے اختتام پر کی جانے والی دُعا۔جس دُعا کا ہمیں قرآن کریم اور احادیث سے پتہ لگتا ہے وہ دُعا وہ ہے جو تہجد کے وقت کی جاتی ہے یا ایک روزہ دار سحری کھانے سے پہلے کرتا ہے۔ہماری یہ دُعا بالکل ایسی ہی ہے جیسے پرانے مسلمانوں کی رسم تراویح تھی اُنہوں نے تراویح کو اختیار کر لیا اور تہجد کو چھوڑ دیا۔تم نے بھی رمضان کے ایک دن جمع ہو کر دُعا کرنا اختیار کر لیا اور رمضان کی تیس دنوں کی دُعا کو چھوڑ دیا۔گویا اُنہوں نے بھی جادو اور ٹونے کا راستہ نکال لیا اور تم بھی جادو اور ٹونہ کا رستہ نکال رہے ہو۔اگر یہ دُعا زائد ہوتی تو پھر یہ ایک عمدہ چیز تھی جیسے فرض خدا تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں، سنتیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملالیں، نفل ہر انسان جتنا دل چاہتا ہے پڑھ لیتا ہے۔جب سنتیں فرض کے ساتھ ادا ہوتی ہیں تو وہ نیکی کو زیادہ کرتی ہیں۔جب نفل سُنتوں کے ساتھ ادا کئے جاتے ہیں تو نیکی کو زیادہ کرتے ہیں لیکن فرض کو چھوڑ کر سُنتیں ادا کرنا یا سنتوں کو چھوڑ کر نفل ادا کرنا انسان کو گنہگار بناتا ہے۔اس وقت جتنے لوگ یہاں جمع ہیں اگر اتنے ہی لوگ ہر روز درس کے لئے آیا کرتے تھے تو ان کا آج کا آنا ان کے