انوارالعلوم (جلد 23) — Page 160
انوار العلوم جلد 23 160 تعلق باللہ معاف کر دیا۔غرض محبت کا تعلق بندہ اور اللہ تعالیٰ میں دونوں طرف سے ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ بھی بندے سے محبت کرتا ہے اور بندہ بھی اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے۔اس سے اُوپر خُلّة کا مقام ہے۔خُلّة کا لفظ خلل سے نکلا ہے اور یہ لفظ ہمارے ملک میں عام طور پر استعمال ہوتا ہے۔کہتے ہیں ہمارے دماغ میں خلل ہے۔ہمارے ملک میں خلل ہے۔ہماری جماعت میں خلل ہے لیکن لوگ سمجھتے نہیں کہ اس کے معنی کیا ہیں۔لغت کے لحاظ سے اُس کے معنی سوراخ اور فاصلہ کے ہوتے ہیں اور یہ ضد کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔بعض لفظ عربی زبان میں ایسے ہیں جو ایک معنی ہی نہیں دیتے بلکہ اُس کے اُلٹ معنی بھی دے دیتے ہیں یعنی اُسی میں شر کے معنی شامل ہوں گے اور اُسی میں خیر کے معنی بھی شامل ہوں گے۔اسی میں فاصلہ کے معنی شامل ہوں گے اور اسی میں قرب کے معنی شامل ہوں گے۔اسی قسم کا یہ لفظ بھی ہے جس کے معنی سوراخ اور فاصلہ کے بھی ہیں اور ایسی محبت اور دوستی کے بھی ہیں جس میں کوئی خلل نہ ہو۔گویا خُلة کے معنی اس محبت کے ہیں جو تمام اختلافات کو دور کر دے اور جذبات اور خیالات میں بیجہتی پیدا کر دے۔یہ معنی تو اقرب الموارد والے نے کئے ہیں لیکن مفردات والا کہتا ہے کہ خلل کے معنی شگاف کے ہیں اور جسم کے شگاف اُس کے مسام اور سوراخ ہیں جن سے پسینہ نکلتا اور زہریلے مواد خارج ہوتے رہتے ہیں اور مساموں کے راستہ ہی باہر کی کئی چیزیں جسم میں داخل ہوتی رہتی ہیں۔پس خُلة کے معنی یہ ہیں کہ ایسی محبت جو خلل کے اندر گھس جائے یعنی خالی دل ہی میں نہ گھسے بلکہ جسم کے سوراخ سوراخ میں داخل ہو جائے اور پھیل جائے۔محبت اُس کو کہتے ہیں جو صرف ایک مقام یعنی دل میں داخل ہو جائے لیکن خُلة اُس دوستی کو کہتے ہیں جو جسم کے تمام مساموں میں داخل ہو جائے اور کوئی حصہ بدن بھی اُس سے خالی نہ ہو۔نہ ہاتھ اُس سے خالی ہوں نہ پاؤں اُس سے خالی ہوں نہ کان اُس سے خالی ہوں نہ آنکھ اُس سے خالی ہو نہ دل اُس سے خالی ہو نہ دماغ اُس سے خالی ہو۔گویا وہ انسانی جسم اور روح اور دل اور دماغ پر اتنی حاوی ہو جائے کہ ہاتھ ہوں تو وہ محبوب کا وجود بنے ہوئے ہوں۔پاؤں ہوں تو وہ محبوب کا وجود بنے ہوئے ہوں