انوارالعلوم (جلد 23) — Page 144
انوار العلوم جلد 23 144 تعلق باللہ منکسر انہ طور پر اخلاص اور تضرع سے دعا کرنا۔گو یار غبت کے یہ معنی ہوئے کہ مومنوں کا اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق ہو جاتا ہے کہ وہ عجز و انکسار سے اُس کے حضور دعائیں کرتے ہیں۔قرآن کریم میں بھی مومنوں کی نسبت یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا 25 مومن بندے ہمیں عجز اور انکسار کے ساتھ پکارتے ہیں کیونکہ اُن کے دلوں میں ہماری شدید محبت ہوتی ہے۔یہاں اس بات کا اقرار کیا گیا ہے کہ نہ صرف یہ کہ انسان خدا تعالیٰ کا محب ہو سکتا ہے بلکہ دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت ہے۔اور وہ ایسے مقام پر کھڑے ہیں کہ عجز اور انکسار کے ساتھ وہ خدا تعالیٰ کی طرف جھکے ہوتے ہیں۔اسی طرح مومنوں کی نسبت فرماتا ہے کہ وہ یہ کہا کرتے ہیں کہ إِنَّا إِلَى اللهِ دُغِبُونَ 20 ہم اللہ تعالیٰ کی طرف راغب ہیں۔پہلے تھی خدا کی گواہی کہ دنیا میں میرے ایسے بندے موجود ہیں جن کے دلوں میں میری محبت ہے اور محبت بھی تیز اور محبت بھی معرفت والی اور عجز اور انکسار والی۔اب فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے بعض بندے ایسے ہوتے ہیں کہ جب انہیں کہا جائے کہ تم کون ہو ؟ تو وہ دھڑتے سے چیلنج کرتے ہیں لوگوں کو ، اور کہتے ہیں کہ ہم خدا سے محبت کرنے والے ہیں۔جب لوگ اُن کو اپنی طرف بلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تمہیں دنیا میں مال دیں گے۔بڑی بڑی نعمتیں دیں گے تو وہ جواب میں کہتے ہیں تم اپنی چیزوں کو اپنے پاس رکھو ہمارا محبوب تو وہ بیٹھا ہے۔بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کا دعویٰ کرنا گستاخی اور بے ادبی ہے۔حالانکہ یہ خیال مذہب کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک شخص حافظ محمد صاحب پشاور کے رہنے والے تھے۔قرآن کریم کے حافظ تھے اور سخت جو شیلے احمدی تھے۔میرا خیال ہے وہ اہلحدیث رہ چکے تھے کیونکہ اُن کے خیالات میں بہت زیادہ سختی پائی جاتی تھی۔وہ ایک دفعہ جلسہ پر آئے ہوئے تھے اور قادیان سے واپس جارہے تھے کہ راستہ میں خدا تعالیٰ کی خشیت کی باتیں شروع ہو گئیں۔کسی شخص نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی شان تو بہت بڑی ہے ہم لوگ تو بالکل ذلیل اور حقیر ہیں پتہ نہیں کہ خدا