انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 122

انوار العلوم جلد 23 122 تعلق باللہ خود ہی سمجھ لینا چاہئے تھا اور اس بارہ میں کسی سوال کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرنی چاہئے تھی۔ایک افسوسناک واقعہ آپ رات کو ایک افسوس ناک واقعہ ہوا کہ عورتوں کی پانچ بیر کیں جل گئیں اور ہزاروں روپیہ کا نقصان ہوا۔ہیں سے زیادہ بستر ہی جل گئے اور بہت سی عورتوں کے بُرقعے جل گئے اور بہت سی عورتوں کی جوتیاں جل گئیں یا غائب ہو گئیں۔بعض کی ایک جل گئی اور ایک رہ گئی۔اس طرح ہزار ہا کا نقصان ہو گیا۔زیورات بھی بڑی مقدار میں ضائع ہوئے ہیں۔کچھ تو مل رہے ہیں مگر کچھ ابھی تک نہیں ملے۔ایک عورت کا کئی ہزار کا زیور گم ہو گیا ہے۔یہ نقصان کچھ تو آگ لگنے کی وجہ سے ہوا اور کچھ آگ کو پھیلنے سے بچانے کے لئے بعض اور ہیر کیں ہمیں خود بھی گرانی پڑیں۔بڑی وجہ اس نقصان کی یہ تھی کہ عورتوں کی بیر کیں الگ تھیں، ان کا رستہ بہت محدود تھا اور اس وجہ سے فوری طور پر زیادہ امداد نہیں پہنچ سکتی تھی" اس موقع پر حضور نے اعلان فرمایا کہ:- "الحمد للہ ابھی اطلاع ملی ہے کہ اس عورت کا آٹھ تولہ کا ہار مل گیا ہے۔بہر حال زیورات انشاء اللہ مل جائیں گے۔اس عورت کے کڑے بھی تھے وہ بھی امید ہے مل جائیں گے"۔سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا:- " میں اس موقع پر پہلی نصیحت مستورات کو یہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ صبر اور ہمت سے کام لیں۔بعض عورتیں اس حادثہ کی وجہ سے سخت گھبراگئیں اور وہ صبح سے ہی بستر باندھ کر بیٹھ گئیں کہ ہم تو جاتی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عورتیں چاہتی ہیں ان کے اچھے کپڑے ہوں اور اگر معمولی کپڑے بھی ہوں تو میلے نہ ہوں۔کیونکہ بہر حال کچھ نہ کچھ زینت کا احساس عورت میں پایا جاتا ہے لیکن ایسے وقت میں اپنے جذبات اور احساسات کو دبالینا چاہئے۔ایسے وقت میں غیرت کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ انسان کہہ دے