انوارالعلوم (جلد 23) — Page 118
انوار العلوم جلد 23 118 تعلق باللہ گو کھو وال اور سوم نمبر پر کراچی۔اس کے علاوہ تمام جماعتوں کی طرف سے خبریں پہنچتی رہی ہیں کہ ضرورت کے مواقع پر بالعموم خدام نے اچھا کام کیا ہے اور یہی نوجوانوں کا فرض ہوتا ہے۔بوڑھے یہ کام نہیں کر سکتے جب یہ لوگ بوڑھے ہو جائیں گے تو اس وقت اگلی نسل آجائے گی اور پھر اس کے بوڑھا ہونے پر اس سے اگلی نسل آجائے گی۔مجھے جو رپورٹیں پہنچتی رہی ہیں ان میں اکثر جماعتوں نے خدام کی تعریف کی ہے۔بے شک بعض نے کمزوری بھی دکھائی ہے مگر یہ نہیں کہ سب نے ایسا کیا ہو۔ہر جماعت میں کچھ کمزور لوگ بھی ہوتے ہیں اور ہماری جماعت میں بھی کچھ کمزور لوگ پائے جاتے ہیں۔حرف تب آتا ہے جب کام کے وقت سارے خاموش رہیں۔مقبرہ بہشتی ربوہ کا مقام میں اصل تقریر سے قبل یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ربوہ کے بہشتی مقبرہ کے متعلق ایک دوست نے سوال کیا ہے کہ جب حضرت اتاں جان کی نعش مبارک کو قادیان کے بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ دفن کر دیا جائے گا تو اس وقت ربوہ کے بہشتی مقبرہ کی کیا حیثیت رہ جائے گی ؟ یہ سوال تو بالکل سادہ تھا اور اگر کوئی نئی چیز ہوتی تو انہیں پوچھنے کی ضرورت بھی ہوتی مگر پھر بھی میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اسلام میں یہ طریق جاری ہے چنانچہ دیکھ لو مقام ابراہیم مکہ میں ہے مگر حضرت ابراہیم مکہ سے چلے گئے اور بیت المقدس میں دفن ہوئے مگر باوجود اس کے ہم اسے صرف خانہ کعبہ نہیں کہتے بلکہ مقامِ ابراہیم بھی کہتے ہیں کیونکہ نبی تو دنیا میں آتے اور فوت ہو جاتے ہیں مگر ان کے چلے جانے کی وجہ سے کسی مقام کی برکات نہیں جاتیں چنانچہ کل ہی میں نے بتایا تھا کہ کسی مقدس مقام کی برکت کبھی نہیں جاتی اور جس مقام پر ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہو جائے تو چونکہ اس مقام نے گناہ نہیں کرنا ہوتا اس لئے وہ فضل چلتا چلا جاتا ہے۔باپ بڑا نیک ہو اور بیٹائر ہو تو برکت مٹ جائے گی۔مگر جس مقام پر دُعائیں کی گئی ہوں اور جہاں خدا نے اپنے فضل کی بارشیں نازل کی ہوں اس مقام کی برکات کبھی مٹ ہی نہیں سکتیں۔آپ لوگوں نے یہ کیوں سمجھا کہ خدا تعالیٰ کے پاس اتنی تھوڑی برکتیں ہیں