انوارالعلوم (جلد 23) — Page 95
انوار العلوم جلد 23 95 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور آباد ہوتا ہے۔ہم نے حکومت سے زمین لے کر ربوہ آباد کر دیا ہے لیکن حکوم جو ہر آباد اور لیاقت آباد کے شہر آباد نہیں کر سکی۔کیا ملک کی ساری طاقت اس کے پیچھے نہیں تھی، کیا ملک کا سارا روپیہ اس کے پیچھے نہیں تھا، پھر کیا حکومت نے وہ شہر آباد کر لئے ہیں؟ ربوہ روپے سے آباد نہیں ہوا۔ربوہ اس وجہ سے آباد نہیں ہوا کہ حکومت نے ہمیں سستے داموں زمین دے دی تھی۔ربوہ آباد ہوا ہے ان گدڑی پوشوں اور کھدر پہنے والے لوگوں کے ایمانوں سے۔یہ ایمان جو ان پھٹے پرانے کپڑے پہنے والوں میں پایا جاتا ہے۔یہ اگر دُنیا میں کہیں اور جگہ پایا جاتا ہو تو ایک ربوہ کیا ایک کروڑ ربوہ سال میں تیار ہو سکتا ہے لیکن اگر یہ ایمان نہ ہو تو چاہے ہزار سال تک بھی احراری شور مچاتے رہیں وہ ہزار سال کے بعد بھی ربوہ جیسا شہر آباد نہیں کر سکیں گے۔ان کی مثال وہی ہو گی جیسے کہتے ہیں ہتھ پرانے کھو نسٹڑے بسنتے ہوری آئے۔۔ایک اخبار نویس نے جو ہم سے اچھا تعلق رکھتے ہیں۔اُنہوں نے ایک دفعہ کہیں لاہور کی نئی آبادی کی سیر کی۔حکومت لاہور کے قریب نئی آبادی کر رہی ہے۔میں اُس وقت کوئٹہ میں تھا۔اس اخبار نویس نے یہ لکھا کہ میں نے ربوہ بھی دیکھا ہے۔وہ بھی شش کر رہے ہیں اور ایک نیا شہر بنانا چاہتے ہیں اور میں نے لاہور کی آبادی کی نئی سکیمیں بھی دیکھی ہیں۔لاہور افسر بھی نہایت مستعد معلوم ہوتے ہیں۔وہ خوب زور سے اس کام میں لگے ہوئے ہیں اور ربوہ کے لوگوں کے بھی بڑے بڑے ارادے ہیں۔اب دیکھیں کون پہلے شہر بنا لیتا ہے۔لاہور کی نئی آبادی کی سکیم پہلے مکمل ہوتی ہے یار بوہ پہلے تیار ہوتا ہے۔اس سفر میں درد صاحب بھی میرے ساتھ تھے۔میں نے انہیں کہا۔آپ اس اخبار نویس کو ایک چٹھی لکھیں اور اس پر صرف ربوہ کا لفظ بریکٹ میں ڈال کر بھیج دیں۔اب دیکھ لو کون سا شہر پہلے آباد ہوا ہے۔لاہور کی نئی آبادی کی جو سکیمیں بن رہی ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہاں کچھ مکان بن گئے ہیں لیکن وہ بات نہیں جو یہاں ہے۔ہمیں تو سامان بھی نہیں ملتا تھا۔ہمیں اینٹیں نہیں ملتی تھیں، لکڑی نہیں ملتی تھی، لوہا نہیں ملتا تھا۔اینٹیں اب بنی ہیں لیکن وہ اتنی جلدی ختم ہوئی ہیں کہ دو بھٹوں کی اینٹیں ا