انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 636 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 636

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۳۶ اتحاد المسلمین ہے اور کوئی دُبلا پتلا ہوتا ہے۔پھر طاقت میں بھی فرق ہوتا ہے۔کوئی زیادہ طاقتور ہوتا ہے اور کوئی کمزور ہوتا ہے۔پھر خوبصورتی اور بدصورتی میں بھی فرق ہوتا ہے۔عقل اور دانش میں بھی فرق ہوتا ہے۔کسی میں عقل و دانش زیادہ ہوتی ہے اور کسی میں کم۔کسی کا حافظہ زیادہ اچھا ہوتا ہے اور کسی کا کم۔پھر حواس خمسہ کا فرق ہے۔ظاہری نظر کے لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر عینک لگاتے ہیں تو کسی کو ایک نمبر کی عینک لگاتے ہیں اور کسی کو دونمبر کی عینک لگاتے ہیں اور کسی کو دور نظر کی عینک لگاتے ہیں اور کسی کو قریب سے دیکھنے کی عینک لگاتے ہیں۔پھر ذائقہ میں بھی فرق ہوتا ہے۔بعض لوگ باریک سے باریک ذائقہ کا بھی پتہ لگا لیتے ہیں۔انگریزوں میں یہ چیز کثرت سے پائی جاتی ہے۔وہاں ذائقہ کی مشق کی جاتی ہے۔شراب کا وہاں عام رواج ہے اور وہ ایسے شخص کو جو یہ بتا دے کہ یہ شراب کس سنہ کے انگوروں سے بنی ہے پانچ پانچ ہزار روپے انعام دے دیتے ہیں۔اسلام میں چونکہ اعتدال کا حکم دیا گیا ہے اس لئے مسلمانوں میں اتنا غلو نہیں ہوتا کہ وہ کھانے پینے کی چیزوں کے لئے پانچ پانچ ہزار روپے کے انعام دے دیں لیکن یورپ میں کھانے پینے کی چیزوں کے لئے ہزاروں روپے کے انعام دے دیئے جاتے ہیں۔اسی طرح ناک کے ذریعہ مختلف خوشبوؤں میں امتیاز کرنے کے لحاظ سے بھی فرق ہے۔پھر آواز میں فرق ہے۔کوئی شخص گلے میں بولتا ہے تو کوئی ناک میں بولتا ہے۔کوئی شخص اتنی موٹی آواز میں بولتا ہے کہ کسی جگہ لوچ نظر نہیں آتا۔تو کوئی اتنی بار یک آواز میں بولتا ہے کہ اس میں ترنم اور سوز پایا جاتا ہے۔پھر بوجھ اُٹھانے اور جانچنے کی طاقت میں فرق ہے۔کوئی من بوجھ اُٹھا سکتا ہے تو کوئی دو من بوجھ اُٹھا سکتا ہے۔پھر وزن اور فاصلہ کا اندازہ لگانے میں فرق ہے۔ایک سپاہی آنکھ سے دیکھ کر بتا سکتا ہے کہ یہ فاصلہ ایک فٹ کا ہے یا دوفٹ کا۔پیمانے تو اب نکلے ہیں۔پہلے افسروں کو فاصلہ جانچنے کی مشق کرائی جاتی تھی اور صرف آنکھ کے اندازے سے فوج کام کرتی تھی۔افسر آنکھ سے اندازہ لگا کر بتاتا تھا کہ اب کتنے فاصلہ پر گولہ پھینکنے کی ضرورت ہے اور تو ہیں کتنے فاصلہ سے گولہ پھینکتی تھیں۔پہلے زمانہ میں بڑی بڑی جنگیں محض آنکھ کے ذریعہ فاصلہ کا اندازہ لگا لینے کے