انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 631 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 631

انوار العلوم جلد ۲۲ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ۶۳۱ اتحاد المسلمین نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اتحاد المسلمين فرموده ۲۵ / مارچ ۱۹۵۲ء بمقام حیدر آبادسندھ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ” میری آج کی تقریر کا موضوع ” اتحاد المسلمین ہے جس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔اس کے ایک معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ مسلمانوں کا اتحاد کن بنیادوں پر قائم ہے اور اس کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ مسلمانوں کا اتحاد کن بنیادوں پر قائم کرنا چاہئے یعنی ایک صورت میں اس عنوان کا یہ مفہوم لیا جائے گا کہ تقریر کرنے والا تسلیم کرتا ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد پایا جاتا ہے اور وہ صرف اس اتحاد کی کیفیت بیان کرنا چاہتا ہے اور دوسرے معنوں کے لحاظ سے اس عنوان کا یہ مفہوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں میں اتحاد کی کمی۔ہے اور ہم نے اسے پیدا کرنا ہے لیکن اسے پیدا کرنے کے لئے وہ کون سے ذرائع ہیں جنہیں اختیار کیا جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر شخص جس نے اسلامی دُنیا کا مطالعہ کیا ہے یا ہر گروہ جس نے مسلمانوں کے حالات کو سوچا ہے ، دیکھا ہے اور جانچا ہے وہ یقیناً اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ مسلمانوں میں کسی نہ کسی قسم کے اتحاد کی ضرورت ہے کیونکہ مسلمان موجودہ زمانہ میں اتحاد کی ان بنیادوں سے دور جا پڑے ہیں جو مستحکم عمارت کے لئے ضروری ہیں۔آخر مسلمان کے گھر میں پیدا ہونے والا اور مسلمانوں سے رشتہ جوڑنے والا شخص اگر اسلام کے اصولوں سے تھوڑی بہت محبت رکھتا ہے تو وہ یہ ضرور دیکھتا ہے کہ اس کے آباء اجدادکون تھے، اسلام کہاں سے آیا ، اسلام کن بنیادوں سے اُٹھا اور کس طرح دُنیا میں پھیلا۔یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ سندھ میں پیدا ہوئے اور نہ سندھ میں تشریف لائے۔