انوارالعلوم (جلد 22) — Page 610
انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۱۰ سیر روحانی (۶) اور ان کا رسمی ایمان مشاہدہ اور بصیرت کا رنگ اختیار کر گیا۔شریعت لعنت نہیں بلکہ خدا تعالیٰ آپ کا دوسرا اہم کام تعلیم کتاب تھا اس کا م کو بھی آپ نے ایسے رنگ میں پورا کیا کہ بڑا بھاری فضل ہے اس کی مثال اور کسی وجود میں نہیں ملتی آپ کی بعثت سے پہلے دنیا میں بعض ایسے مذاہب تھے جو اپنی نادانی سے شریعت کو لعنت قرار دیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ ایک ایسا بوجھ ہے جو انسان کی کمر کو توڑ دینے والا ہے آپ نے بتایا کہ یہ نظر یہ صحیح نہیں، شریعت اللہ تعالیٰ کا ایک بڑا بھاری فضل ہے کیونکہ انسان جب اس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرے تو وہ اپنی عقل سے خدا تعالیٰ کی مرضی کو کس طرح معلوم کر سکتا ہے۔یہ مرحلہ تو اسی صورت میں طے ہو سکتا ہے جب خدا تعالیٰ خود بتائے کہ میری رضا کس امر میں ہے اور شریعت اس چیز کا نام ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی کی راہوں کو خدا تعالیٰ کی زبان سے ہی معلوم کیا جائے۔پس شریعت خدا تعالیٰ کی ایک بڑی بھاری رحمت ہے اس وجہ سے قرآن کریم کو مختلف مقامات میں رحمت قرار دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ قرآن بنی نوع انسان کو تکلیف میں ڈالنے کے لئے نہیں بلکہ آسانیاں پیدا کرنے کے لئے آیا ہے۔۱۲۱ شریعت کا فائدہ پھر آپ نے اس امر کی بھی وضاحت فرمائی کہ شریعت اس لئے نازل نہیں ہوتی کہ اُس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی شان بڑھتی ہے بلکہ اس لئے نازل کی جاتی ہے کہ بنی نوع انسان اُس کے احکام پر عمل کر کے ترقی کریں کیونکہ اس کا ہر حکم انفرادی اور قومی ترقی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، خدا تعالی کو اُن احکام پر عمل کرنے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو اسی نکتہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم میں سے جو شخص نیکی کرے گا وہ اپنے نفس کے لئے کریگا اور جو شخص بدی کا ارتکاب کرے گا اُس کا وبال بھی اس کی جان پر پڑے گا، خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر کوئی ظلم نہیں کرتا۔۱۲۲