انوارالعلوم (جلد 22) — Page 609
انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۰۹ سیر روحانی (۶) کے سورج یا روحانی دنیا کے چاند یا روحانی دنیا کے ستاروں کی ضرورت کا انکار کرتا ہے وہ قانونِ قدرت سے اپنی آنکھیں بند کرتا اور حقائق سے روگردانی اختیار کرتا ہے چنانچہ اسلام نے اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا ہے۔کہ ہم تمہارے سامنے اس آسمان کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو مختلف بروج والا ہے ۱۱۸، یعنی جس طرح تمہیں اِس مادی دنیا کے آسمان میں سورج اور چاند اور ستارے دکھائی دیتے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ نے روحانی عالم میں بھی ظلمتوں کو دُور کرنے کے لئے سورج اور چاند اور ستارے بنائے ہیں جو لوگوں کو اپنے نور سے منور کرتے رہتے ہیں۔بعث بعد الموت آپ نے اسی سلسلہ میں بعث بعد الموت پر بھی روشنی ڈالی کیونکہ اس کے متعلق بھی کوئی انسان اپنی ذاتی کد و کاوش سے معلومات حاصل نہیں کر سکتا تھا آپ نے ایک طرف تو جزاء وسزا کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور دوسری طرف یہ بتایا کہ اس جزاء کا مخفی رکھا جانا بھی ضروری ہے ورنہ انسانی اعمال غیر اختیاری ہو جائیں اور جزا ء ایک بے معنی لفظ بن کر رہ جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص نہیں جانتا کہ اُس کے لئے عالم آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کیا سامان مخفی رکھا گیا ہے کیونکہ یہ انعام تمہارے اعمال کی جزاء میں ملنے والا ہے 119 اگر اس کو ظاہر کر دیا جائے تو حقیقت کے منکشف ہونے پر ایمان لا نا کوئی خوبی نہ رہے اور انسان کسی جزاء کا مستحق نہ ہو۔آپ نے اس امر کی تصریح فرمائی کہ عالم آخرت درحقیقت اسی دنیا کا ایک تسلسل ہے جس میں اپنے اپنے اعمال کے مطابق مادیت کے بوجھ سے آزاد ہو کر انسانی روح اُس راستہ پر گامزن ہو جاتی ہے جو اُس نے خود اپنی دُنیوی زندگی میں اختیار کیا ہوتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص اس دنیا میں روحانی لحاظ سے نا بینائی رکھتا ہوگا وہ عالم آخرت میں بھی اس نابینائی کو لے کر اُٹھے گا اور خدائی قرب کے دروازے اُس پر نہیں کھلیں گے ۱۲۰ غرض ہر وہ مخفی مسئلہ جس پر مذہب اور روحانیت کی بنیا دتھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کھول کر بیان کیا کہ انسانی عقول تسلی پاگئیں