انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 601

انوار العلوم جلد ۲۲ تم سب کو معاف کر دیا۔۱۰۶ ۶۰۱ سیر روحانی (۶) ابوسفیان کا اقرار کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ مکہ کے لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اکیلا شخص کب تک اپنے مشن علیہ وسلم دنیا کا سب سے بڑا بادشاہ ہو گیا ہے کو قائم رکھ سکتا ہے یہ آج نہیں تو کل تباہ ہو جائیگا مگر خدا اسے کوثر دینے کا وعدہ فرما چکا تھا۔اُس نے آپ کے ماننے والوں میں اتنی کثرت پیدا کی کہ ابوسفیان نے جب فتح مکہ کے موقع پر اسلامی لشکر کو دیکھا تو بے اختیا ر وہ حضرت عباس سے مخاطب ہو کر کہنے لگا عباس ! تمہارے بھائی کا بیٹا آج دنیا کا سب سے بڑا بادشاہ ہو گیا ہے۔۱۰۷ کفار کے بیٹے محمد رسول اللہ صلی اللہ پھر ان لوگوں کو اپنے بیٹوں پر بڑا نا ز تھا، مگر خدائی نشان دیکھ کر وہی عاص بن وائل علیہ وسلم کی غلامی میں آگئے جو بڑے تکبر سے اپنا تہ بند نکائے پھرتا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہا کرتا تھا اُس کا اپنا بیٹا مسلمان ہو گیا، وہی ولید جو رات اور دن اسلام کے مٹانے پر کمر بستہ رہتا تھا اُس کا اپنا بیٹا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل ہو گیا ، وہی ابو جہل جو تمام کفار کا لیڈر تھا اور جس کی زندگی کی ایک ایک گھڑی اسلام کی مخالفت میں گزری اُس کا اپنا بیٹا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد میں شامل ہو گیا۔یہ ایک خطرناک قسم کی آگ تھی جو خدا نے اُن کے دلوں میں پیدا کر دی اور جس کے شعلے انہیں ہر وقت جلا کر خاکستر بناتے رہتے تھے اور انہیں کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اس آگ کے بجھانے کا کیا انتظام کریں۔وہ خود اسلام کے دشمن تھے مگر اُن کی اولادوں نے اپنے آپ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈالنا شروع کر دیا اور وہ اپنے باپوں اور بھائیوں کے خلاف تلواریں چلا نے لگ گئے۔یہ ایک بہت بڑا عذاب تھا جس میں وہ رات اور دن مبتلا ء رہتے تھے کہ جس مذہب کو مٹانے کے لئے اُنہوں نے اپنی عمریں صرف کر دیں وہی مذہب اُن کے گھروں میں داخل ہو گیا اور اُس نے اُنہی کے بیٹوں کو اُس کا شکار بنالیا۔