انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 500

انوار العلوم جلد ۲۲ سیر روحانی (۶) ہوتا تھا کہ یہ خان کہاں سے آ گیا۔بعد میں معلوم ہو ا کہ خان ایک اعزاز کا لفظ تھا مگر آہستہ آہستہ اتنی کثرت سے قوم میں بڑے لوگ پیدا ہوئے کہ اُن کی کثرت کی وجہ سے ساری قوم ہی خان کہلانے لگ گئی اور اب تک کہلاتی ہے۔ہر پٹھان جب تمہیں نظر آئے گا تم کہو گے خان صاحب ! بیٹھئے ، خان صاحب ! تشریف لائیے ، خان صاحب ! آپ کس طرح تشریف لائے ہیں ؟ غرض وہ خان کہلاتا ہے مگر وہ تو محض ایک تسلسل کے طور پر خان بن گیا ہے درحقیقت خود اُس نے کوئی بڑا کام نہیں کیا، نہ اُس نے ذاتی طور پر کوئی ایسی قابلیت حاصل کی ہے جس کی وجہ سے اُسے کوئی خاص مقام عزت حاصل ہوتا لیکن انگریز کا بنایا ہو ا خان صاحب بسا اوقات کسی جولا ہے کی بیٹی مانگتا تو وہ کہتا تھا نہیں ، ہم کذاتوں کو نہیں دے سکتے۔انگریز اُسے خان صاحب کہتا تھا اور ہمارے ملک کا جولاہا اسے کذات کہتا تھا۔یا اگر کوئی خان صاحب سید یا مغل یا پٹھان ہوتے تو وہ خان صاحب یا خان بہادر سمجھ کر اسے عزت نہیں دیتا تھا بلکہ سید یا مغل یا پٹھان ہونے کی وجہ سے عزت دیتا تھا۔گویا لوگ اس نسل کی وجہ سے یا اس رشتہ داری کی وجہ سے تو عزت کرتے تھے جو اسے اپنے باپ دادا کی وجہ سے حاصل ہوتی تھی لیکن اس عزت کی وجہ سے جو اسے گورنر جنرل کی طرف سے ملتی تھی اسے اپنے خاندان کا حصہ بنانے کے لئے تیار نہیں تھے۔انگریزی خطابات حاصل پھر بعض کو اُس زمانہ میں ”سر‘“ کا خطاب دیا جاتا تھا اب سر“ کے معنے جناب کے ہیں لیکن حقیقتاً ا وو کرنے والوں کی کیفیت بعض ”مسٹر ایسے ذلیل ہوتے تھے اور ایسی پا جیا نہ حرکتیں کرتے تھے کہ لوگ انہیں گالیاں دیتے تھے۔پھر انگریز کے زمانہ میں خطاب ہوتے تھے سٹار آف انڈیا (Star of India) یا گرینڈ کراس آف انڈین ایمپائر (Grand Cross of Indian Empire) یعنی بڑی صلیب دیدی گئی لیکن بڑی صلیب لینے والے جو لوگ تھے ان میں سے کئی صلیب کے شدید دشمن ہوتے تھے۔کئی مسلمان جن کے دلوں میں غیرت ہوتی تھی اُن کا جی چاہتا تھا کہ موقع ملے تو صلیب کو توڑ ڈالیں۔کہلاتے تھے وہ بڑی صلیب کے حامل لیکن ان کے دل میں یہ ہوتا تھا کہ ہم چھوٹی