انوارالعلوم (جلد 22) — Page 501
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۰۱ سیر روحانی (۶) صلیب کے بھی حامل نہیں۔یہ خطاب کیا ہوا کہ جس کو خطاب دیا جاتا ہے وہ اس کو ذلیل سمجھتا ہے ، وہ اس کو حقیر سمجھتا ہے ، وہ اس کو نا قابل اعتناء سمجھتا ہے ، وہ اس کو قابل ہلاکت سمجھتا ہے۔مغلوں کے زمانہ میں اعتماد الدولہ اور نظام الملک کے خطاب ملتے تھے لیکن وہی اعتماد الدولہ اور نظام الملک دوسرے دن فوج لے کر بادشاہ کے خلاف لڑنے کے لئے آ جاتے تھے۔نہ دولت کا ان پر کوئی اعتماد ہوتا تھا نہ ملک کے نظام کے ساتھ ان کی کوئی وابستگی ہوتی تھی۔دیکھ لو نظام حیدر آباد کو نظام الملک کا خطاب حاصل تھا لیکن اور نگ زیب کے بعد اس نے ملک کی آزادی کا اعلان کر دیا اور بعد میں انگریزوں کے ساتھ مل گیا۔اب بھی موجودہ نظام نے شروع میں ہندوؤں سے لڑنے کے لئے اپنی قوم کو اُبھارا اور اُکسایا جب قوم لڑنے کے لئے کھڑی ہو گئی تو اُس نے حکومت کو چٹھی لکھ دی کہ بندہ تو حضور کا غلام ہے یہ لوگ باغی ہو کر لڑائی کر رہے ہیں جس طرح ارشاد ہو کیا جائے گا۔شہزادوں کی غذاری اسی طرح ان بادشاہوں کی اولا د بسا اوقات خود اپنے باپ کی وفات کی متمنی ہوتی تھی۔باپ صاحب بیٹھے ہوئے اپنے وزیروں سے کہتے تھے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ لوگ ہمارے خاندان کے وفا دار ثابت ہوں گے اور ہماری اور ہماری نسل کی بہی خواہی کریں گے۔اور بیٹا پاس بیٹھا ہو ا اِس امید میں ہوتا تھا کہ رات کو موقع ملے تو کسی کی معرفت یا خود اُسے قتل کر کے تخت پر بیٹھ جائے۔رباریوں کی سازشیں پھر اسی دربار میں جہاں بادشاہ کی طرف سے اعزاز مل رہا ہوتا تھا بسا اوقات جس کو اعزا ز مل رہا ہوتا تھا وہ کسی بیگم یا شہزادہ یا شہزادی سے مل کر بادشاہ کے خلاف منصوبہ کر رہا ہوتا تھا۔ادھر اعزا ز مل رہا ہوتا تھا اور اُدھر ساز باز جاری ہوتی تھی کہ اس کو مٹا دیا جائے۔ایک ہندو اخبار تھا اُس کا یہ طریق تھا کہ وہ بڑے بڑے لوگوں کے راز معلوم کر کے 66 پھر کہانی کے طور پر اُن کو شائع کیا کرتا تھا اور اس سلسلہ کا نام اُس نے چوں چوں کا مربہ رکھا ہو ا تھا۔یہ سلسلہ مضامین اخبار عام میں بھی چھپتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام