انوارالعلوم (جلد 22) — Page 25
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۵ سچا ایمان، پیہم عمل اور راستبازی کی عادت پیدا کرو اور عملی اصول ایسے ہیں جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر ابھی تک ایک ہی رہے ہیں اور قیامت تک ایک ہی رہیں گے۔نہ حضرت آدم علیہ السلام نے ان کے خلاف کیا، نہ حضرت نوح علیہ السلام نے ان کے سوا کوئی اور تعلیم دی ، نہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے انحراف کیا نہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیھما السلام نے ان سے الگ ہو کر تعلیم دی اور نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جدا گا نہ تعلیم دی۔حضرت آدم علیہ السلام سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر قیامت تک وہ اصول ایک ہی رہے ہیں ، ایک ہی ہیں اور ایک ہی رہیں گے۔لیکن بعض زمانے ایسے آتے ہیں جب لوگ ان اصولوں کو بھول جاتے ہیں اور بعض زمانے ایسے آئے ہیں جب مؤمنوں کو بڑے تعہد اور سختی کے ساتھ اُن پر عمل کر نیکی ضرورت ہوتی ہے۔ان اصولوں میں سے پہلی چیز ایمان ہے۔ایمان کی اسلامی تشریح تو یہ ہے کہ ایمان اَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ کے فارمولہ پر جس کو عربی میں کلمہ کہتے ہیں یقین اور ایمان رکھے۔لیکن دیکھ لو جب یہ کہا جاتا ہے کہ ایمان کیا چیز ہے؟ اسلام کیا چیز ہے؟ تو تم کلمہ شہادت پڑھتے ہو اور کہتے ہو اس پر ایمان اور یقین رکھنا۔جس سے معلوم ہوا کہ ایمان اور چیز ہے اور کلمہ شہادت اور چیز ہے۔ایمان در حقیقت وہ قوت محرکہ ہے جو صداقتوں کو ماننے اور صداقتوں کو دنیا میں پھیلانے کے پیچھے عمل کر رہی ہوتی ہے اَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وہ کلمہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور پھر اس کے بعد کے لوگوں میں قوت محرکہ کے طور پر رہا ہے یعنی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں موجود تھے اُس وقت بھی یہ کلمہ قوت محرکہ کے طور پر تھا اور آپ کے بعد کے زمانہ میں بھی یہی قوت محرکہ کے طور پر ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں کوئی کلمہ نہیں تھا بلکہ یہ عقیدہ رکھنا کہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں تا وہ اپنی قوم کی اصلاح کریں اور اُن کے اعمال درست کریں اسی کو قوت محرکہ قرار دیا گیا تھا۔اس سے