انوارالعلوم (جلد 22) — Page 26
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۶ سچا ایمان ، پیہم عمل اور راستبازی کی عادت پیدا کرو قبل حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا اور ان کے بتائے ہوئے طریق پر عمل کرنا قوت محرکہ قرار دیا گیا تھا۔گویا اسلام سب جگہوں پر موجود تھا لیکن اس کی شکلیں بدل گئی تھیں اسی طرح ایمان ہر جگہ تھا لیکن قوت محرکہ بدلتی رہتی تھی۔ایمان صرف کلمہ کا نام نہیں بلکہ ایمان نام ہے اس یقین اور اس اعتماد کا جو صداقت اور اصول صداقت پر ہو جو انسانی اعمال اور زندگی کو اسکے تابع کر دے۔بے شک کسی وقت اس کا جزو حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لانا تھا، کسی وقت اس کا جز وحضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا تھا، کسی وقت اس کا جز و حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لا نا تھا لیکن اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی لائی ہوئی تعلیمات پر ایمان لانا اس کا جُزو ہے۔پس پہلی چیز جس سے کوئی قوم بنتی ہے وہ ایمان ہے۔یہ تو مذہبی چیز ہے جب ہم قوموں کی طرف جاتے ہیں تو ان کے اندر ایمان ایک الگ رنگ میں ہوتا ہے جسے نیشنل سپرٹ یا قومی روح کہا جاتا ہے۔گویا قومی روح سیاسی ایمان ہے۔ایک انگریز کا ایمان یہ ہے کہ حکومت کو جو مشکل بنتی ہے اُس کی حفاظت اور قیام کے لئے وہ ہمیشہ فعال رہے گا۔ایک امریکن کا ایمان یہ ہے کہ امریکہ اور اُس کے ماتحت علاقوں کو جو مشکل حاصل ہے اُس کی حفاظت اور ترقی کے لئے وہ ہمیشہ کوشاں رہے گا۔یہ سیاسی ایمان بھی اسی طرح کا ہے جس طرح کا مذہبی ایمان ہے کہ مذہب کی تمام صداقتوں کی پر ایمان لایا جائے اور اس کے جو اصول ہیں اُن کی حفاظت اور اشاعت کے لئے اپنی کی ساری زندگی لگا دی جائے۔اور جس وقت کوئی شخص یہ پختہ ارادہ کر لیتا ہے کہ میں ان کی صداقتوں اور ان اصولوں پر قائم رہوں گا اور دوسروں کو بھی ان کی طرف لاؤں گا تو اسے ایمان کہتے ہیں۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اسلام کا دوبارہ احیاء کیا گیا ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ اسلام زندہ ہی ہے لیکن موجودہ لوگوں کا یقین اور اعتماد جو بیکار ہو چکا تھا اور خدا اور اُس کا رسول اِس سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا رہے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسے دوبارہ زندہ کرنے کیلئے اس دنیا میں تشریف لائے۔پس احمدیت میں