انوارالعلوم (جلد 22) — Page 23
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۳ سچا ایمان ، پیہم عمل اور راستبازی کی عادت پیدا کرو مشقیں کرائی جائیں وہاں خدام کو صف بندی کی بھی عادت ڈالی جائے اور یہ کام اسی اجلاس سے شروع کر دینا چاہئے۔قائد اور زعماء جو یہاں موجود ہیں، انہیں صف بندی کے اصول بتائے جائیں جب آخری دن آئے گا یعنی پرسوں صبح تو کوئی وقت نکال کر میں آپ کو اکٹھا کروں گا اور کھڑا کر کے دیکھوں گا کہ آیا آپ صحیح طور پر اپنی صفیں سیدھی کر سکتے ہیں اور آیا قائدین اور زعماء کو وہ طریق یاد ہو گیا ہے جسے محوظ رکھ کر خدام کو صفیں سیدھی رکھنے کی مشق کرائی جائے گی۔تیسری بات میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب ایسے کام کئے جائیں تو صحیح طریق یہ ہوتا ہے کہ خدام سیدھے کھڑے ہو جائیں اور اپنی نظریں سامنے رکھیں۔اور خواہ کتنی ہی کی اہم بات کیوں پیدا نہ ہو وہ اپنی نظریں سامنے سے نہ ہٹا ئیں۔یہ چیز بھی اسلام میں جاری کی گئی ہے۔نماز میں یہ حکم ہے کہ نمازی اپنی نظر اپنی سجدہ گاہ پر رکھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ نماز میں جو شخص دائیں یا بائیں دیکھتا ہے یا اس کی نظر نیچے اور اوپر پھرتی ہے قریب ہے کہ خدا تعالیٰ اُس کی بینائی کو اُچک لے۔اب دیکھ لو یہ کتنا خطر ناک وعید ہے کہ خدا تعالیٰ ایسا کر نیوالے کو اندھا کر دے گا۔غرض وہ سارے احکام جواب تنظیم کے لئے مقرر کئے گئے ہیں اسلام میں پہلے سے موجود ہیں۔ہمیں یہ سبق سکھایا گیا ہے کہ صرف نماز میں ہی نہیں بلکہ تنظیم کے جو مواقع بھی پیش آئیں اُن میں ہمیں انہی اصولوں پر کار بند رہنا چاہئے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تمام خدام جو کھڑے ہیں ان میں سے کچھ دائیں طرف دیکھ رہے ہیں تو کچھ بائیں۔کچھ اوپر دیکھ رہے ہیں اور کچھ نیچے حالانکہ اسلامی اصول کے مطابق چاہئے تھا کہ آپ سب سامنے دیکھتے۔میرا خطیب ہونے کے لحاظ سے یہ کام ہے کہ چاروں طرف دیکھوں میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت جب میں سامنے دیکھنے کی نصیحت کر رہا ہوں اس وقت بھی خدام دائیں اور بائیں اور اوپر اور نیچے دیکھ رہے ہیں۔انسان کو کم از کم نصیحت کے وقت تو اس پر عمل کر لینا چاہئے۔بد قسمت ہے وہ شخص جو تنظیم کے وقت اپنا کام بھول جاتا ہے لیکن کم از کم وہ کمزوری جو نا قابل معافی ہے اور حیرت انگیز ہے وہ یہ ہے کہ انسان اُسی وقت جبکہ نصیحت ہورہی ہو اس کی خلاف ورزی کرے