انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 461

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۶۱ چشمہ ہدایت ہے کہ سچی بات منہ سے نکل جایا کرتی ہے۔کہتے ہیں کہیں چوری ہو گئی مگر پولیس کو چور کا پتہ نہیں لگتا تھا۔جس نے چوری کی تھی وہ کوئی نیا نیا چور بنا تھا۔اُسے خوف پیدا ہو ا کہ کہیں میں پکڑا نہ جاؤں وہ پولیس کے ساتھ ساتھ رہنے لگا اور جب اُنہوں نے تفتیش شروع کی تو وہ اپنی عقلمندی جتانے کے لئے جتانے لگا کہ معلوم ہوتا ہے پہلے چور یہاں آیا پھر آگے بڑھا پھر اندر داخل ہوا اور آخر اُس نے اسباب اُٹھا کر گٹھڑی میں باندھ لیا ، اس کے بعد وہ دیوار پھاند کر نکلنے لگا تو گھڑی اور میں باہر۔پولیس والوں نے جھٹ اُسے گرفتار کر لیا اور کہا کہ اب آپ بھی باہر نہیں رہ سکتے۔تو بات یہ ہے کہ دماغ میں تو یہی گھسا ہوا ہے کہ ہر شخص مرتا ہے اور عقل اسی کی تائید کرتی ہے چنانچہ جہاں بے ساختہ شعر کہنا پڑے وہاں اُن کی زبان سے یہی نکل جاتا ہے کہ موسیٰ" کہاں اور عیسی کہاں سب فوت ہو چکے ہیں۔جذبات صحیحہ کو لے لو تو کوئی مسلمان بھی یہ برداشت نہیں کرے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو فوت ہو جائیں اور حضرت عیسی کو سنبھال کر رکھ لیا جائے۔آخر تم کونسی چیز سنبھال کر رکھا کرتے ہو اچھی چیز یا بُری چیز ؟ ہمیشہ اچھی چیز سنبھال کر رکھی جاتی ہے ،مثلاً گھر میں کباب پکتے ہیں تو ایک دوشامی کباب تم سنبھال کر رکھ لیتے ہو کہ بچہ صبح ناشتہ کر لے گا۔لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ دال خراب ہو گئی اور تم نے اُسے سنبھال کر رکھ لیا ہو کہ صبح بچے کو کھلائیں گے یا اچھا کوٹ تو تم سنبھال کر نہ رکھو اور پھٹا ہو اکوٹ سنبھال لو کہ اگلے سال عید کے موقع پر پہنیں گے۔اگر خدا نے کسی نبی کو سنبھال کر ہی رکھنا تھا تو تم میں تو عقل ہے کہ تم شامی کباب سنبھال کر رکھو ، سڑی ہوئی دال نہ رکھو لیکن خدا نے سنبھالنا چاہا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ سنبھالا عیسی کو سنبھالا۔دوسری چیز مسئلہ نبوت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ وسلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے یہ معنے بیان فرمائے ہیں کہ آپ اپنے درجہ اور روحانی کمالات میں تمام انبیائے سابقین سے افضل واعلیٰ ہیں اور کسی نبی کی نبوت بھی آپ کی تصدیق کے بغیر ثابت نہیں ہو سکتی آپ تصدیق کرتے ہیں تو اُس کو نبی تسلیم کیا جاتا ہے اگر آپ تسلیم نہ کریں اور آپ کی مہر تصدیق اُس کی نبوت پر نہ لگے تو وہ کبھی نبی تسلیم