انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 462

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۶۲ چشمہ ہدایت نہیں کیا جا سکتا۔اب دیکھ لو جہاں تک نقل کا سوال ہے سارا قرآن اس مضمون کی تصدیق کرتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم وضاحتاً بتاتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نازل ہونے والی کتب کی تصدیق کرتے ہیں یعنی جب تک آپ کی تصدیق نہ ہو اور جب تک آپ کی طرف سے اعلان نہ ہو کہ فلاں کتاب خدائی تھی اور فلاں نبی خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا اُس وقت تک نہ اُس کتاب کا منجانب اللہ ہونا تسلیم کیا جا سکتا ہے اور نہ اُس نبی کی نبوت تسلیم کی جا سکتی ہے۔عقلاً دیکھ لو کہ کیا کوئی نبی بھی دنیا میں ایسا پایا جاتا ہے جس کے حالات کو پڑھ کر ہم خود یہ فیصلہ کرسکیں کہ فلاں شخص نبی تھا۔ہم اگر کسی کو نبی تسلیم کرتے ہیں تو محض اس لئے کہ قرآن نے کہا کہ وہ نبی تھا۔یا قرآن نے ہمیں نبیوں کی شناحت کے اُصول بتائے ہیں کہ فلاں فلاں اُمور کا نبیوں میں پایا جانا ضروری ہے ورنہ اُن کے حالات جو بیان کئے جاتے ہیں اُن کو اگر مد نظر رکھا جائے تو پھر تو کسی نبی کی نبوت کو بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔مثلا مسیح کو ہی لے لیا جائے۔انجیل میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح لوگوں کے جن بھوت نکالتے تھے ، اور پھر سوروں کے گلوں پر اُن کو ڈال دیتے تھے اور وہ جھیل میں ڈوب کر مر جاتے تھے۔انجیل کہتی ہے کہ شیطان حضرت مسیح کے پاس آیا اور وہ انہیں ایک پہاڑی پر لے گیا اور کہا کہ تو مجھے سجدہ کرے تو میں ساری دنیا کی دولت اور ساری دنیا کے خزانے تجھے دے دوں گا۔انجیل کہتی ہے کہ حضرت مسیح اُن مجالس میں شریک ہوا کرتے تھے ، جن میں شراب پی پی کر لوگ مدہوش ہو جاتے تھے بلکہ ایک مجلس میں شراب ختم ہو گئی تو اُنہوں نے کھڑے ہو کر یہ معجزہ دکھایا کہ جن مشکوں میں پانی بھرا ہوا تھا وہ سب کے سب شراب سے بھر گئے۔ہمارے شاعر تو صرف تفنن طبع کے لئے یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ساقیا ہمیں اور پلا مگر انجیل کے بیان کے مطابق تو حضرت عیسی علیہ السلام معجزے دکھا دکھا کر شرا ہیں پلایا کرتے تھے۔اسی طرح اور بیسیوں باتیں ہیں جو انجیل میں درج ہیں ان باتوں کے دیکھتے ہوئے کیا کوئی عقل مان سکتی ہے کہ اس قسم کے انسان کو خدا رسیدہ کہا جا سکے۔صاف پتہ لگتا ہے کہ وہ نعوذ باللہ کوئی ہتھکنڈے باز آدمی تھا۔گلا ڈر کے بھا گا تو کہہ دیا میرے پاس جن بھوت تھے جو میں نے ان پر ڈال دیئے تھے۔شراب میں