انوارالعلوم (جلد 22) — Page 449
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۴۹ چشمہ ہدایت آدمی اُن کے سینہ پر چڑھ جاتا اور گو دتا۔پھر کہتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جھوٹے ہیں اور خدا تعالیٰ کے اور بھی شریک ہیں۔یہ لات منات اور غزی جو ہیں یہ سب خدا کے شریک ہیں۔زبان اُن کی اٹک جاتی تھی ، گلا اُن کا خشک ہو جاتا تھا۔حبشیوں کے منہ سے یوں بھی ش نہیں نکلتا۔جس وقت ان کو بہت پیٹتے تو وہ کہتے تھے اَسْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا الله اور جب بالکل ہی بے دم ہو جاتے تو وہ فرماتے اَحَدٌ اَحَدٌ یعنی خدا ایک ہی ہے۔۵ غرض اس کا نمونہ مسلمانوں میں موجود ہے کہ کس کس طرح انہیں تکلیفیں دی گئیں مگر پھر بھی وہ اپنے عقیدہ پر قائم رہے۔اس کے مقابلہ میں وہ بھی مسلمان کہلانے والے لوگ ہوتے ہیں جو معمولی لالچ کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔حضرت خلیفہ اول سُنایا کرتے تھے کہ کوئی مولوی صاحب میرے دوست تھے اور مجھے ان پر بڑی حسن ظنی تھی ، بظا ہر بڑے نیک اور نمازی نظر آتے تھے ایک دن کسی نے مجھے آکر کہا کہ آپ فلاں مولوی صاحب کی بڑی قدر کرتے ہیں۔وہ بڑا ذلیل قسم کا آدمی ہے میں نے کہا نہیں بڑا اچھا آدمی ہے کہنے لگا فلاں لڑکی جو شادی شدہ تھی اُس کی اس نے دوسری جگہ شادی کر دی ہے۔میں نے کہا تم الزام لگاتے ہو ایک دو دن کے بعد مولوی صاحب جو مجھے ملنے کے لئے آئے تو میں نے کہا مولوی صاحب ! میں تو نہیں مانتا لیکن کسی شخص نے یہ بات بتائی ہے اور میرا فرض ہے کہ آپ کو وہ بات پہنچا دوں اُس نے کہا ہے کہ آپ نے ایک شادی شدہ عورت کا دوسری جگہ پر نکاح پڑھ دیا ہے۔کہنے لگا شادی شدہ عورت کا دوسری جگہ پر نکاح۔مولوی صاحب ! آدمی کو چاہئے کہ پہلے تحقیقات کرے اور پھر دیکھے کہ کیا بات ہے یونہی کسی پر الزام نہیں لگا نا چاہئے۔میں نے کہا یہی تو میری غرض تھی اور میں خوش ہو گیا کہ معلوم ہوتا ہے بات جھوٹی ہے اور یہی میرا مطلب تھا لیکن اس کے بعد کہنے لگا مولوی صاحب ! یہ بتائیے نمبر دار نے چڑی چڈا روپیہ جے کڑھ کے میرے سامنے رکھ دیتا تے میں کی کردا۔آپ فرماتے تھے میں نے سمجھا تھا کہ خبر نہیں مارا ہو گا، پیٹا ہو گا ، گھر سے نکال دیا ہوگا اور کیا کیا زمینداروں نے ظلم کیا ہو گا۔آخر کہلوا لیا ہو گا مولوی تھا ڈر گیا۔مگر ظلم کیا