انوارالعلوم (جلد 22) — Page 450
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۵۰ چشمہ ہدایت نکلا؟ مجبوری کیا نکلی؟ مجبوری یہ نکلی کہ چڑی چڑا روپیہ کڈھ کے آگے رکھ دتا تے میں کی کردا“ یہ آجکل کے مسلمانوں کی حالت ہے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ آرے سے تم کو چیر دیا جائے ، آگ میں تم کو جلا دیا جائے مگر تمہارے دل میں جو یقین اور وثوق پیدا ہو چکا ہو وہ نہ نکلے اور تم اپنی بات پر قائم رہو اور یہ بھی ادنیٰ درجہ کا ایمان ہے۔اس کے اوپر ایمان بڑھتا چلا جاتا ہے۔اب ہم ایمان کے سمجھنے میں ایک قدم قریب ہو گئے لیکن یہ بھی بات ہے کہ ہر شخص کو آرے سے تو چیرا نہیں جاتا ، ہر شخص کو تو آگ میں نہیں ڈالا جاتا ، ہر شخص کو تو پہاڑ سے گرایا نہیں جاتا۔جس کو گرائیں گے اُس کو تو پتہ لگ جائے گا کہ ایمان اسے نصیب ہے یا نہیں ہمیں کس طرح پتہ لگے گا ؟ اُس کو تو پتہ لگ گیا کہ ایمان کی کیا طاقت ہے ہمیں کس طرح پتہ لگے گا ؟ یہ معیار اگر مل جائے تو پھر بے شک ہم مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ہمیں ایمان حاصل ہے۔اس کے پہچاننے کے لئے ہم کو یہ مسئلہ یوں سمجھنا چاہئے کہ ایمان کے معنے بیان کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان اُس عقیدہ کا نام ہے جو غیر متزلزل ہو یعنی وہ کسی صورت میں بھی متزلزل نہ ہو سکے۔اب ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہدایت لے کر خدائی قانون کی طرف جاتے ہیں کہ غیر متزلزل کونسی چیز ہؤا کرتی ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ کسی چیز کو عام حالات میں کیا بات متزلزل کر دیا کرتی ہے؟ یوں تو ایک پاگل ہوتا ہے وہ ہر بات کے متعلق قیاس کر لیتا ہے سوال یہ ہے کہ ایک انسان جو معمولی عقل کا انسان ہے اور مشترک عقل اُس میں پائی جاتی ہے وہ کیوں متذبذب ہو ا کرتا ہے؟ اگر تم غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ تین چیزیں ہیں جن کی وجہ سے انسان متزلزل ہو ا کرتا ہے۔ایک متزلزل کرنے والی چیز ہوتی ہے عقیدہ اور نقل۔ایک شخص کو یقین ہے که قرآن سچا ہے اُس کو اگر آکر کوئی کہے کہ قرآن میں یہ لکھا ہوا ہے تو چاہے اس کا کوئی عقیدہ ہو اگر وہ قرآن کو سچا سمجھتا ہو گا تو فوراً کہہ دے گا کہ میری غلطی ہے قطع نظر اس کے کہ وہ بات ٹھیک ہے یا نہیں یہ جانے دو۔لیکن جس کو کسی چیز پر عقیدت ہو جس کو نقل کہتے