انوارالعلوم (جلد 22) — Page 413
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۱۳ ہجرت اخلاقی اور روحانی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ہمدردی اور جو پیار بنی نوع انسان سے تھا اُس کو دیکھتے ہوئے کوئی شریف مکہ والا آپ کو مکہ سے نکلنے پر مجبور نہیں کر سکتا تھا۔آپ کے لئے تو یہ بات حد درجہ بعید از قیاس تھی۔جب پہلی وحی کنبوت آپ پر نازل ہوئی ، آپ کی رفیقہ حیات حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو ساتھ لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس جو اُن کے رشتہ دار تھے، مگر عیسائی ہو چکے تھے، مشورہ کے لئے گئیں۔ورقہ بن نوفل نے سارے حالات سُن کر کہا کہ آپ پر وحی لانے والا فرشتہ وہی ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی لایا تھا۔اور پھر کہا کاش! میں اُس وقت تک زندہ رہوں جب تمہاری قوم تمہیں اپنے وطن سے نکال دے گی تا کہ میں اس وقت پورے طور پر تمہاری مدد کر سکوں۔اس فقرہ کو سُن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت اور اُس ہمدردی پر نظر کرتے ہوئے جو آپ کے دل میں مکہ والوں کے لئے تھی حیرت سے ورقہ کے منہ کو دیکھا اور کہا۔کیا کہتے ہو؟ کیا مکہ والے مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا۔ہاں ! ہاں ! وہ ضرور تمہیں نکال دیں گے۔لوگ نبیوں سے ایسا ہی کیا کرتے ہیں کے غرض مکہ والوں کے متعلق یہ وہم بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہ ایسے خیر خواہ شخص کو اپنے وطن سے نکال دیں گے مگر اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔اور یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ ان کے دل انسانی دل نہیں رہے تھے اور شیطان نے اُن پر قبضہ پالیا تھا۔مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں جانا چاہتے تھے اور ایسا کرنے کا پختہ ارادہ رکھتے تھے اس لئے نہیں کہ آپ ان سے بدلہ لیں جنہوں نے آپ کو نکال دیا تھا بلکہ اس لئے کہ اُن کو شیطان کے پنجہ سے چھڑائیں اور شیطان کی جگہ خدا تعالیٰ کی حکومت پھر دوبارہ مکہ میں قائم کر دیں۔آج بھی مشرقی پنجاب سے لاکھوں مسلمان اپنے گھروں سے نکالے گئے ہیں۔اُنہیں یقیناً اپنے وطن پیارے ہوں گے اور اپنی جائیدادوں کے جاتے رہنے کا غم ہوگا۔ان کے دل ان لوگوں کے خلاف غصہ اور رنج سے بھرے ہوئے ہوں گے جنہوں نے اُنہیں ان کے گھروں سے نکالا۔ان جائیدادوں پر قبضہ کر لیا اور ان کی عزت و ناموس پر