انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 358

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۵۸ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے فرق ہے۔ہندوؤں میں اُس زمانہ کے حالات اور مشکلات کو دیکھ کر یہ روزہ قرار دیا گیا کہ چولھے کی پکی ہوئی چیز نہیں کھائی ، کوئی مادی اور ٹھوس چیز نہیں کھانی۔ہاں اگر کوئی ہلکی پھلکی چیز ہو اور وہ کھالی جائے تو کوئی حرج نہیں۔اُس زمانہ میں لوگ جنگلات میں رہتے تھے اور غیر محفوظ تھے۔دشمن اور جانوروں کے اچانک حملہ کا انہیں مقابلہ کرنا پڑتا تھا اس لئے روزوں میں کھانا بالکل بند نہ کیا گیا تا کہ ان کی طاقت بحال رہے اور انسان کمزور نہ ہونے پائے۔اُس وقت شہر نہیں تھے اور نہ ہی مقرر شدہ راستے تھے۔دشمن چوری چوری حملہ آور ہوتا تھا۔مہذب ملکوں میں تو راستے مقرر ہوتے ہیں اور خواہ دشمن ہوں یا دوست اُن ہی راستوں کے ذریعہ آتے جاتے ہیں اس لئے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے میں سہولتیں پیدا ہوگئی ہیں لیکن پہلے زمانہ میں یہ سہولتیں نہیں تھیں۔جس طرح جنگل میں ایک شکاری اچانک بندوق ہاتھ میں لے کر جانور کے سر پر پہنچ جاتا ہے اسی طرح لوگ جنگلوں میں رہتے تھے تو دشمن اُن پر اچانک حملہ آور ہو جا تا تھا اس لئے روزوں میں یہ رعایت دی گئی کہ وہ ہلکی پھلکی چیزیں کھا سکتے ہیں۔گویا روزہ اُس وقت بھی موجود تھا ہاں اس کی شکل بدلی ہوئی تھی۔البتہ ہندوؤں میں کچھ روزے ایسے بھی تھے جن میں ہماری طرح کھانا پینا با لکل منع ہوتا تھا۔پھر عیسائیوں میں بھی روزے پائے جاتے ہیں۔کچھ روزے ایسے ہیں جن میں آدھے دن کا فاقہ ہوتا ہے یا ویسے بعض پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔مثلاً کہا جاتا ہے کہ گوشت نہیں کھانا۔اسی طرح دوسرے مذاہب میں روزے پائے جاتے ہیں۔اسلام نے ان روزوں کی شکل بدل دی ہے ورنہ روزہ اپنی ذات میں وہی ہے جو پہلے زمانوں میں تھا۔پھر ز کوۃ اور صدقہ ہے۔یہ بھی ہر مذہب میں پایا جاتا ہے۔زمانہ کے حالات کے لحاظ سے بعض پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں لیکن اصول ایک ہی رہے ہیں۔عیسائیوں ، زرتشتیوں ، یہودیوں ، ہندوؤں اور دیگر سب مذاہب میں صدقہ اور زکوۃ پائے جاتے ہیں ہاں شکل اور تفصیل میں فرق آ گیا ہے۔پھر حج ہے یہ بھی قریباً ہر مذہب میں پایا جاتا ہے۔عرب میں حج کرنے کا رواج تھا