انوارالعلوم (جلد 22) — Page 357
انوار العلوم جلد ۲۲ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ۳۵۷ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے ( فرموده ۲ ستمبر ۱۹۵۱ء بر موقع جلسه یوم تحریک جدید بمقام بیت مبارک ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا پیغام حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک ایک ہی رہا ہے۔بے شک اس میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں، اس میں ترقی ہوتی رہی ہے لیکن مغز اور جڑ ایک ہی رہی ہے۔مثلاً مذہب کی جڑ ہے خدا تعالیٰ پر ایمان لانا اور پھر خدائے واحد پر ایمان لانا۔زمانے کی ضرورتوں اور لوگوں کی عقل کے معیار کے مطابق توحید کی شرح پہلے موٹی تھی پھر درمیانے درجہ کی ہوئی اور پھر فلسفی اور باریک رنگ کی ہو گئی۔لیکن کہا ہر نبی نے یہی ہے کہ خدا ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ہر نبی نے یہی کہا ہے کہ ہمیشہ ایک خدا کی عبادت کرنی چاہئے۔ہاں عبادت میں آگے فرق ہو گیا ہے۔زمانہ کے حالات ، لوگوں کی عقل کے معیار اور اُن کے کام کاج اور اخلاص کے معیار کے مطابق کسی مذہب میں ہفتہ میں ایک نماز فرض کر دی گئی اور باقی کو نفل قرار دے دیا گیا۔کسی مذہب میں صبح و شام دو نمازوں کو فرض قرار دے دیا گیا اور باقی نمازوں کو نفل قرار دیا گیا اور اسلام میں آ کر خدا تعالیٰ نے پانچ نمازیں ایک دن رات میں فرض قرار دے دیں اور باقی نمازوں کو نفل قرار دے دیا لیکن عبادت در حقیقت ایک ہی رہی ہاں اس کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں۔پھر روزے ہیں۔ہر مذہب میں روزے کی تعلیم پائی جاتی ہے۔روزوں کی شکل میں