انوارالعلوم (جلد 22) — Page 338
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۳۸ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو پیغام پہنچایا۔اس میں بدنامی کی بھی باتیں ہوں گی مگر اس جیسا نڈر، بہادر اور اسلام کے لئے قربانی کرنے والا آدمی بھی اُس زمانہ میں ہمیں شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے۔آنے والے نے حجاج سے کہا کہ میں سندھ سے آیا ہوں۔وہاں یکے بعد دیگرے دو مسلمان قافلے لوٹے گئے ہیں اور کئی مسلمان قید ہیں۔راجہ داہر نے گورنر مکر ان سے کہا یہ بالکل جھوٹ کہا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔حجاج نے کہا کہ میں کس طرح مان لوں کہ تم جو کچھ کہ رہے ہو درست کہہ رہے ہو۔ہر بات کی دلیل ہونی چاہئے بغیر کسی دلیل کے میں تمہاری بات نہیں مان سکتا۔اُس نے کہا کہ آپ مانیں یا نہ مانیں واقعہ یہی ہے کہ وہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔حجاج نے کہا کہ اول تو تمہاری بات پر یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہم نے گورنر مکران کو لکھا اور اُس نے جو جواب دیا وہ تمہارے اس بیان کے خلاف ہے دوسرے تمہیں یہ بات یا درکھنی چاہئے۔خلیفہ وقت کا حکم ہے کہ جتنی فوج میسر ہوا فریقہ بھیج دو پس اس وقت ہم اپنی فوجوں کو کسی اور طرف نہیں بھیج سکتے۔غرض اس نے ہر طرح سمجھایا مگر حجاج پر کوئی اثر نہیں ہوا اور اُس نے کہا کہ میرے حالات اس قسم کے نہیں کہ میں اس طرف توجہ کرسکوں۔جب وہ ہر طرح دلائل دے کر تھک گیا تو اُس نے کہا میرے پاس آپ کے لئے اور خلیفہ وقت کے لئے ایک پیغام بھی ہے۔حجاج نے کہا کے وہ کیا ہے؟ اُس نے کہا کہ جب میں چلا ہوں تو ایک مسلمان عورت جو قید ہونے کے خطرہ میں تھی اور اس وقت تک قید ہو چکی ہوگی اُس نے مجھے یہ پیغام دیا تھا کہ اسلامی خلیفہ اور عراق کے گورنر کو ہماری طرف سے یہ پیغام دے دیں کہ مسلمان عورتیں ظالم ہندوؤں کے ہاتھ میں قید ہیں اور ان کی عزت اور ان کا ناموس محفوظ نہیں ہے ہم مسلمان قوم سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ اپنے فرض کو ادا کرے اور ہمیں یہاں سے بچانے کی کوشش کرے۔کوئی ملک نہیں ، کوئی قوم نہیں دو یا تین عورتیں ہیں اور ہیں یا چھپیں مرد ہیں جن کے بچانے کے لئے بعض دفعہ ضلع کا ڈپٹی کمشنر بھی یہ کہہ دیتا ہے کہ میرے پاس سپاہی موجود نہیں یہ ایک معمولی واقعہ ہے اس کا حجاج پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہی حجاج جو یہ کہہ رہا تھا کہ ہمارے پاس فوج نہیں ہم یورپ پر حملہ کی تیاری کر رہے ہیں وہ اس پیغام کوسن کر گھبرا کر کھڑا ہو گیا اور جب اُس