انوارالعلوم (جلد 22) — Page 339
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۳۹ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو آنے والے آدمی نے پوچھا کہ اب آپ مجھے کیا جواب دیتے ہیں؟ تو حجاج نے کہا کہ اب کہنے اور سننے کا کوئی وقت نہیں اب میرے لئے کوئی اور فیصلہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اب اس کا جواب ہندوستان کی فوج کو ہی دیا جائے گا۔چنانچہ اُس نے بادشاہ کو لکھا اُس نے بھی یہی کہا کہ ٹھیک فیصلہ ہے اب ہمارے پاس غور کرنے کا کوئی موقع باقی نہیں۔اور اس فیصلے کے مطابق مسلمان فوج سندھ کے لئے روانہ کر دی گئی۔درمیان میں کوئی ہزار میل کا فاصلہ ہے یا اس سے بھی زیادہ اور اس زمانے میں موٹروں کے ساتھ بھی اس فاصلے کو آسانی سے طے نہیں کیا جا سکتا لیکن بادشاہ نے حکم دیا کہ اب مسلمانوں کی عزت اور ناموس کا سوال ہے بغیر کسی التوا کے جلد سے جلد منزل مقصود پر مسلمانوں کا پہنچنا ضروی ہے چنانچہ مسلمان درمیان میں کہیں ٹھہرے نہیں اُنہوں نے اونٹوں اور گھوڑوں پر رات دن سفر کیا اور بارھویں دن اس فاصلے کو جو آج ریلوں اور موٹروں کے ذریعہ بھی اتنے قلیل عرصہ میں طے نہیں کیا جا سکتا اپنی ان تھک محنت اور کوشش کے ساتھ طے کرتے ہوئے وہ ہندوستان کی سرحد پر پہنچ گئے۔اب تو تمہارا اپنا وجود ہی بتا رہا ہے کہ اس مہم کا بتا نتیجہ کیا ہوا۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ آٹھ ہزار سپاہی جو بصرہ سے چلا تھا۔اس آٹھ ہزار سپاہی نے دو مہینہ کے اندر اندر سندھ ، ملتان اور اس کے گرد و نواح تک کو فتح کر لیا اور وہ قیدی بچائے گئے ، عورتیں بچائی گئیں اور سندھ کا ملک جس میں راجہ داہر کی حکومت تھی اسے سارا کا سارا فتح کر لیا گیا اور پھر مسلمانوں کا لشکر ملتان کی طرف بڑھا مگر بدقسمتی سے بادشاہ کی وفات کے بعد اُس کا بھائی تخت نشین ہوا اُسے ان لڑائیوں میں بادشاہ سے بھی اختلاف تھا اور افسروں سے بھی اختلاف تھا۔جب وہ اپنے بھائی کی وفات کے بعد حکومت کے تخت پر بیٹھا تو اُس نے محمد بن قاسم کو جو ایک فاتح جرنیل تھا اور جو ارادہ رکھتا تھا کہ حملہ کر کے بنگال تک چلا جائے معزول کر کے واپس آنے کا حکم دے دیا اور جب وہ واپس آیا تو اسے قتل کروا دیا ور نہ ہندوستان کا نقشہ آج بالکل اور ہوتا۔آج صرف یہاں پاکستان نہ ہوتا بلکہ سارا ہندوستان ہی پاکستان ہوتا۔جن ملکوں کو عربوں نے فتح کیا ہے اُن میں اسلام اس طرح داخل ہوا ہے کہ کوئی