انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 321

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۲۱ اصلاح اور تربیت کے لئے اپنا نیک نمونہ پیش چل پڑا اور کہا کہ یہ بندوق شکار مار بھی لیتی ہے؟ ہم نے کہا ہاں مار لیتی ہے۔برات کی شکل میں ہم ان کے گاؤں جا نکلے۔اس لڑکے کی ماں باہر نکلی سکھ مرد تو گوشت کو کھا لیتے ہیں لیکن سکھ عورتیں ہندوؤں کی طرح گوشت استعمال نہیں کرتیں اس نے اپنے بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم جیو ہتیا کرتے ہوا اور مسلوں کو ساتھ لے آئے ہو!! اس پر وہی لڑکا جو ہمیں اصرار کے ساتھ لایا تھا سب سے زیادہ اُس کی آنکھیں سُرخ ہو گئیں اور وہ ناچنے لگا اور کہنے لگا تم کیوں جیو ہتیا کرتے ہواور یہاں شکار مارنے کیوں آتے ہو؟ میں حیران تھا کہ کیا ہوا یہ لڑکا ہمیں خود ساتھ لایا ہے اور یہاں آکر اس طرح آنکھیں نکالنے لگا۔اس کی وجہ یہی تھی کہ دوسرے کو دیکھ کر ان میں جوش پیدا ہو جاتا ہے۔وہ لڑ کا شکار کو بُرا نہیں سمجھتا تھا اور جیو ہتیا کو نہیں جانتا تھا لیکن جب ماں نے کہا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم جیو ہتیا کرتے ہو تو یہ سُن کر جھٹ اس کے اندر جوش پیدا ہو گیا اور وہ ہمیں گھور نے لگا۔پس یہی ہے کہ آپس میں ملنے جلنے سے انسان کے اندر جوش اور عزم پیدا ہوتا ہے اور انسان اس سے فائدہ اُٹھاتا ہے پس آپ اپنی اپنی جگہوں پر واپس جا کر اپنا نیک نمونہ پیش کریں۔لوگوں کے سامنے نئی روح اور نئی زندگی پیش کریں اور دو چار دس آدمیوں میں وہی جوش اور وہی عزم پیدا کر دیں جو آپ نے چند دن یہاں رہ کر اپنے اندر پیدا کیا ہے۔پھر وہ لوگ دوسروں کے پاس جائیں اور ان کے اندر جوش اور عزم پیدا کر دیں۔جب لوگ دیکھیں گے کہ یہ لڑ کا آوارہ تھار بوہ میں چند دن تربیت حاصل کرنے کے بعد واپس آیا ہے تو اس نے آوارگی چھوڑ دی ہے وہ دین کی خدمت کر رہا ہے اور خدمت خلق مشغول ہے تو پانچ سات آدمی ضرور اس کے گرد جمع ہو جائیں گے۔پس اگر تم نے ان چند دنوں سے فائدہ اُٹھایا اور یہ روح اپنے اندر پیدا کر لی تو اچھی بات ہے اور تم نے اپنا مقصد حاصل کر لیا۔لیکن اگر تم نے صرف کا پیوں میں اسباق کے نوٹ لئے ہیں تو یہ دن تم نے ضائع کئے اس سے زیادہ باتیں قرآن کریم ، توریت، انجیل، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ، میری کتب، حضرت خلیفہ اول کی کتب اور علمائے سلسلہ