انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 322

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۲۲ اصلاح اور تربیت کے لئے اپنا نیک نمونہ پیش کی کتب میں موجود تھیں اور یہ کام تم گھر بیٹھ کر کر سکتے تھے۔صرف میری کتابوں میں بھی اتنا مصالحہ موجود ہے کہ اس کے سامنے یہ نوٹ تمہیں حقیر نظر آئیں گے۔لیکن اگر تم نے ان چند دن کی صحبت سے فائدہ اُٹھا لیا تو یہ چیز تمہارے کام آئے گی۔خلوت میں اگر کتا ہیں پڑھی جائیں تو بعض اوقات مشوش دماغ ان سے کچھ فائدہ حاصل نہیں کر سکتا لیکن کی دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر جو باتیں سنی جائیں وہ مفید ہو جاتی ہیں۔پس آج میں صرف اتنی نصیحت کرتا ہوں کہ تم عمل کی طرف توجہ دو۔باہر سے جو رپورٹیں آتی ہیں ان میں بتانا چاہئے کہ خدام کی کیا حالت ہے لیکن جو عہد یدار یہ لکھتا ہے کہ کوئی شخص ہماری بات نہیں مانتا میں اُسے پاگل سمجھتا ہوں۔ہر ایک شخص کے کان ہیں پھر وہ تمہاری بات کیوں نہیں سنتا۔گاندھی جی کھڑے ہوئے تو لوگ اُن کے گرد جمع ہو گئے ریہ محض اس لئے تھا کہ انہوں نے اپنا نمونہ دوسروں کے سامنے پیش کیا۔تم بھی اپنا نمونہ پیش کر و لوگ تمہاری بات ماننے لگ جائیں گے۔یہ کہنا کہ لوگ ہماری بات نہیں سنتے انسانیت اور ہمسایوں پر بدظنی ہوتی ہے اور اس شخص سے زیادہ ذلیل اور قوم کا دشمن اور کوئی نہیں ہوتا جو یہ کہتا ہے کہ کوئی شخص میری بات نہیں مانتا۔وہ یا تو اول درجہ کا متکبر ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میرے سوا اور کوئی کام نہیں کر سکتا اور یا وہ اپنے سوا کسی کو نیک نہیں سمجھتا۔اگر کسی کو دس آدمیوں کی موجودگی میں اپنی تعریف کرانی مقصود ہو تو ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان دس آدمیوں سے افضل ثابت کرے اور اس کے لئے اسے کام کرنا پڑے گا کسی کی بڑائی اور زندگی کا یہی ثبوت ہوتا ہے کہ وہ باقیوں کو کمتر دکھا دے لیکن جو لوگ اپنی بڑائی چاہتے ہیں اور کام کرنا نہیں چاہتے وہ اپنے آپ کو اونچا کرنے کی بجائے باقیوں کو ذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ بُرا طریق ہے اس سے بچنا چاہئے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ نو جوانوں کی سستی اور غفلت سے مرکز کو مطلع نہ کیا جائے ایسا ضرور کریں لیکن ایسی بات لکھتے وقت یہ دیکھ لینا چاہئے کہ کہیں یہ بات اپنے آپ کو بڑھانے اور دوسروں کو ذلیل کرنے کے لئے تو نہیں۔پس ماننے والے موجود ہیں، سننے والے موجود ہیں بشرطیکہ کوئی منوانے والا اور سنو انے والا ہو۔ہٹلر کو دیکھ لو کہ وہ کس طرح اپنی قوم کو