انوارالعلوم (جلد 22) — Page 7
انوار العلوم جلد ۲۲ L عورتیں آئندہ نسلوں کو دیندار بناسکتی ہیں ہیں اور عورتیں اور قسم کی ہیں غلط ہے۔جیسے ایک عمارت میں اگر کچھ لوگ رہتے ہیں اور اُن کے ہمسایہ میں بعض اور لوگ ٹھہرے ہوئے ہوں تو یہ نہیں کہا جاتا کہ یہ اور قسم کے مرد ہیں اور وہ اور قسم کے مرد ہیں بلکہ باوجود الگ الگ محلوں، الگ الگ مکانوں اور الگ الگ شہروں میں رہنے کے ہر شخص سمجھتا ہے کہ تمام لوگ ایک جیسی طاقتیں رکھتے ہیں۔اسی طرح بے شک عورت اور مرد کے جسم الگ الگ ہیں مگر طاقتیں ایک جیسی ہیں اور اُن کے جسموں کا الگ الگ ہونا ایسا ہی ہے جیسے الگ الگ مکان میں مختلف لوگ رہ رہے ہوں۔اگر عورت کے جسم میں روح آجائے تو وہ کوئی الگ چیز نہیں بن جاتی بلکہ اُس کے اندر وہی روح ہے جو مرد کے اندر ہے صرف اُس کے جسم کی بناوٹ مرد سے علیحدہ ہے۔ورنہ اُس کے اندر وہی روح پائی جاتی ہے جو مردوں کے اندر پائی جاتی ہے۔اب اس بات کو پھیلا کر دیکھو تو معلوم ہوگا کہ یہ ایک بہت بڑی سچائی ہے جو قرآن کریم نے بیان کی ہے۔تمام چیزیں جو مرد پر اثر کرتی ہیں وہی عورت پر بھی اثر کرتی ہیں۔مثلاً بچہ پیدا ہوتا ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ مرد ہنے لگیں اور عورت رونا شروع کر دے یا بھوک پر عورت روٹی کھانے لگے اور مرد فاقہ شروع کر دیں۔یا باپ مرے تو بیٹے رونے لگ جائیں اور بیٹیاں پہننے لگ جائیں۔ایسا کبھی نہیں ہوا بلکہ باپ کی وفات کا جواثر بیٹوں پر ہوتا ہے وہی اثر بیٹیوں پر بھی ہوتا ہے۔اسی طرح خاوند کی وفات پر جواثر بیوی پر ہوتا ہے ویسا ہی اثر بیوی کی وفات کا خاوند پر ہوتا ہے۔آخر وہ کونسی چیز ہے جو ان کو الگ کرتی ہے۔جہاں تک مکان کا تعلق ہے اس کا فرق کوئی فرق نہیں۔فرض کرو ایک شخص ایک انگریزی طرز کی کوٹھی میں رہتا ہے اور ایک پرانے طرز کے محل میں رہتا ہے تو کیا ان دونوں میں فرق ہوگا ؟ اِس میں رہنے والے بھی مرد ہیں اور اُس میں رہنے والے بھی مرد ہیں۔اسی طرح جسم ایک مکان ہے خواہ جسم مرد کی شکل میں بنا دیا جائے اور خواہ عورت کی شکل میں بنا دیا جائے۔اس میں رہنے والی بھی روح ہے۔یہ مضمون ہے جو قرآن کریم بیان فرماتا ہے۔اور جو دنیا کی کسی اور کتاب میں بیان نہیں کیا گیا۔اس سے اللہ تعالیٰ یہ سبق دیتا ہے کہ