انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 303

انوار العلوم جلد ۲۲ اپنے اندر سچائی ، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو تھے کہ اس نے اُسے دو یا اڑھائی نمبر دے دیئے۔غرض ہمارے ملک کے لڑکے خود محنت نہیں کرتے اور جب فیل ہو جاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو کلاس میں ہوشیار تھے اور محنت بھی خوب کی لیکن اُستاد کو ہم سے دشمنی تھی اس لئے اس نے ہمیں فیل کر دیا۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کا وہ حصہ جو انہوں نے عملی رنگ میں گزارنا تھا حصول تعلیم میں گزر جاتا ہے۔ہمارے ملک میں اوسط عمر ۳۵ سال ہے۔یورپ میں اوسط عمر ۴۵ سال ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے بڑی عمر نہیں ہو سکتی۔بعض ۷۰ ۸۰ سال کی عمر کو بھی پہنچ جاتے ہیں لیکن جب اوسط نکالی جائے تو وہ یہی ۳۵ سال بنتی ہے اور اگر ۲۵ ، ۲۶ سال پڑھنے میں ہی لگا رہے تو باقی کیا رہ گیا۔حالانکہ ہر نو جوان کے اندر یہ احساس ہونا چاہئے کہ وہ جلد سے جلد تیاری کو ختم کرے اور پھر اپنی قوم اور ملک کی خاطر کوئی کام کرے۔پس تم زیادہ سے زیادہ محنت کی عادت ڈالو۔جب تک تم محنت کی عادت نہیں ڈالو گے اس وقت تک یہ اُمید کرنا کہ تم کوئی مفید کام کر سکو گے ، غلط ہے۔کوئی مفید کام کرنے کے لئے ضروری ہے کہ زندگی کے عملی حصے کو کام میں لگایا جائے۔طاقت کا زمانہ یہی ہوتا ہے جس کو ہمارے نو جوان حصول تعلیم میں ضائع کر دیتے ہیں۔عورتوں کے متعلق مشہور ہے۔بیسی کھیسی یعنی عورت ہیں سال کی ہوئی تو بوڑھی ہوئی۔مرد کے کام کا وقت بھی ہیں سے چالیس سال تک کا ہوتا ہے اور اگر اس میں سے ۲۶،۲۵ سال تیاری پر لگا دیئے جائیں تو پھر آدھا کام ہو گا۔حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ پڑھائی میں یا سکول میں اتنا وقت خرچ کر دیتے ہیں اُن کے ذہن گند ہو جاتے ہیں اور کسی بڑے کام کرنے کی اُن میں طاقت ہی نہیں رہتی۔جب کسی بڑے کام کے کرنے کا وقت آتا ہے تو ان کی طاقت کمزور ہو جاتی ہے۔جن لوگوں نے کام کرنا ہوتا ہے وہ علم سے کام لیتے ہیں اور تھوڑے سے سرمایہ سے زیادہ کام کرنا جانتے ہیں۔انہیں محنت کی عادت ہوتی ہے وہ جب کوئی بڑا کام کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو پھر علم اور دولت کا خیال نہیں کرتے کہ وہ کس قدر ہیں بلکہ وہ کام پر لگ جاتے ہیں اور دُنیا میں اپنا نام پیدا کر لیتے ہیں