انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 302

انوار العلوم جلد ۲۲ ٣٠٢ اپنے اندر سچائی ، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو دیا کہ وہ میرے ساتھ ساتھ رہے۔اس لڑکے کی عمر ۱۳ ، ۱۴ سال کی تھی۔ایک دن جب میں سیر کے لئے باہر گیا تو میں نے اس لڑکے سے اس کے والد کا نام پوچھا۔اس نے ایک بڑے بکر Banked) کا نام لیا جو بہت مالدار تھا۔تعلیم کے متعلق میں پہلے پوچھ چکا تھا کہ وہ مڈل یا انٹرنس جو وہاں کی ابتدائی تعلیم ہوتی ہے پاس ہے۔میں نے اس لڑکے سے کہا۔تمہارا باپ بہت امیر ہے تم کالج میں کیوں تعلیم حاصل نہیں کرتے جب سامان میسر ہیں تو تم نے اپنی تعلیم بیچ میں کیوں چھوڑ دی ؟ وہ لڑکا غصہ سے کہنے لگا میں اتنا بے غیرت نہیں کہ اپنے ماں باپ سے خرچ لے کر مزید تعلیم حاصل کروں۔میرا والد مزید تعلیم کے لئے مجھے اخراجات دیتا تھا لیکن میں نے کہا میں نے پڑھنا ہوگا تو خُو د محنت کر کے پڑھوں گا باپ کا احسان نہیں اُٹھاؤں گا لیکن ہمارے ملک میں لڑکے کئی سال تک فیل ہوتے چلے جاتے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم اپنے والدین پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔فیل ہونے پر وہ کہہ دیتے ہیں ہم نے تو بڑی محنت کی تھی اور اپنی کلاس میں ہوشیار تھے لیکن فلاں اُستاد کی جوتی کو ایک دفعہ ہم نے ٹیڑھی نظر سے دیکھ لیا تھا تو اِس لئے اُستاد کی ہم سے دشمنی ہوگئی اور اُس نے ہمیں فیل کر دیا۔ایک دفعہ ایک احمدی دوست نے مجھے خط لکھا کہ میرا لڑکا قادیان میں پڑھتا ہے۔عربی میں وہ اچھا ہوشیار تھا لیکن اُستاد نے اسے فیل کر دیا ہے۔اگر وہ کمزور ہوتا تو مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن وہ عربی میں اچھا ہوشیار تھا مگر اُستاد نے پھر بھی اسے فیل کر دیا یہ بڑے ظلم کی بات ہے اور پھر اس قسم کی حرکتیں قادیان میں کی جاتی ہیں آپ اس طرف توجہ کریں۔میں نے اس لڑکے کے پرچے منگوائے تو یہ دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی کہ اس نے ۵۰ یا سو نمبروں میں سے صرف دو یا اڑھائی نمبر حاصل کئے تھے اور یہ نمبر بھی اُستاد کے رحم و کرم کی وجہ سے اُس نے حاصل کر لئے تھے ورنہ میرے نزدیک وہ صفر کا مستحق تھا۔میں نے اس دوست کو لکھا۔افسوس ہے کہ آپ نے اس بارہ میں تقویٰ سے کام نہیں لیا۔آپ کہتے ہیں میرا لڑکا اچھا ہوشیار تھا میں نے اس کے پرچے منگوائے ہیں اور خود دیکھے ہیں اس کو زیرو (0) ملنا چاہئے تھا لیکن پتہ نہیں کہ اُستاد کے اس کے ساتھ کیسے تعلقات