انوارالعلوم (جلد 22) — Page 256
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۵۶ سیر روحانی (۵) نہیں تھا اور میری پیٹھ منگی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ میری پیٹھ پر سے کپڑا اُٹھا دو تا کہ میری نگی پیٹھ پر یہ شخص گہنی مار کر مجھ سے بدلہ لے لے۔صحابہ کرام کا دل تو اُس وقت یہی چاہتا ہوگا کہ اس شخص کی زبان کاٹ ڈالیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے نتیجہ میں وہ مجبور تھے۔انہوں نے آپ کی پیٹھ نگی کی اور اُسے کہا کہ وہ آئے اور کہنی مارلے۔وہ شخص آگے بڑھا اُس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور اُس نے ادب کے ساتھ اپنا سر جھکاتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ کو چوم لیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا یہ کیا؟ اس نے کہا يَا رَسُولَ الله ! کس کم بخت کے دل میں یہ خیال بھی آسکتا تھا کہ وہ آپکو کہنی مارے، يَا رَسُولَ الله ! جب آپ نے ذکر فرمایا کہ میری موت اب قریب ہے تو میرے دل میں خیال آیا کہ میں اس بہانے سے آپ کو پیار تو کرلوں۔۲۳ اسلامی کانسٹی ٹیوشن یہ ہے اسلامی کانسٹی ٹیوشن۔بے شک اسلامی قانون کے ماتحت خلیفہ یا امام پر اپنے قانون کے نفاذ میں کوئی مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا چنانچہ تاریخ میں اس امر کی کوئی مثال نہیں ملے گی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اس لئے کوئی مقدمہ دائر کیا گیا ہو کہ فلاں گورنر کیوں بنایا گیا ؟ یا فلاں سکیم کیوں بنائی گئی ؟ لیکن ذاتی معاملات میں امام یا خلیفہ پر نالش کی جاسکتی ہے اور اس کے بغیر دنیا میں کہیں انصاف قائم نہیں ہوسکتا۔اسی طرح اسلام اس امر پر بھی زور دیتا ہے کہ دلیل دے کر کسی شخص کو مجرم بنایا جائے یہ اسلامی کانسٹی ٹیوشن کی ہی خوبی ہے کہ وہ دوسرے کو دلیل کی بناء پر مجرم بنانے کا فیصلہ کرتا ہے قرآن کریم فرماتا ہے ليفلك مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَى مَن حي عن بَينَةٍ وَإِنَّ اللهَ لَسَمِيْعُ عَلِيم ۲۴ یعنی ہم نے قرآن کریم نازل کر دیا اب دنیا میں ہمارا قانون یہ ہوگا کہ وہی شخص زندہ رکھا جائیگا جس کو دلیل زندہ رکھے گی اور وہی شخص تباہ ہو گا جس کو دلیل تباہ کرے گی گویا غلبہ بھی دلیل کے ساتھ ہوگا اور شکس و