انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 161

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۶۱ متفرق امور گویا اس تحریک کے بعد جماعت احمدیہ پاکستان نے ۵۱ ہزار روپیہ ادا کیا اور دس بارہ ہزار روپیہ قادیان میں وصول ہوا اور اب موجودہ رقم میں سے صرف ۶۳ ہزار روپیہ باقی ہے اور چونکہ دوستوں نے دوبارہ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ بقایا اپریل ۱۹۵۱ ء تک ادا کر دیں گے اس لئے یہ ۶۳ ہزار روپیہ بھی جلد ادا ہو جائے گا۔اب ہم دیکھیں گے کہ دشمن کیا کہتا ہے۔پہلے اس نے کہا جماعت مرگئی۔اب وہ یہ کہے گا کہ جماعت دوبارہ زندہ ہو گئی۔انصاف تو یہ ہے کہ وہ کہے اس اعلان پر احمدی دوبارہ زندہ ہو گئے ہیں۔بہر حال جماعت نے اخلاص کا نہایت اچھا نمونہ دکھایا ہے۔اس سال پنجاب میں سیلابوں کی وجہ سے بڑی خطر ناک تباہی آئی اور سندھ میں بیماری کی وجہ سے ۲۵ سے چالیس فیصدی تک فصلیں مر گئیں۔اتنی تباہی کے ایام میں اگر جماعت نے اتنی سستی دکھائی تو یہ ختم ہونے کی علامت نہیں۔کچھ تو سیلاب کی وجہ سے چندہ ادا نہ کیا جا سکا اور کچھ اس خیال سے سستی ہو گئی کہ میں نے چندہ نہیں دیا تو کیا ہے میرا دوسرا بھائی دے دے گا لیکن میری تحریک کا یہ اثر ہوا کہ یا تو ۵۰ فیصدی سے بھی کم چندہ آیا تھا اور یا اب ۸۵ فیصدی چندہ آچکا ہے اور میں اُمید کرتا ہوں کہ احباب اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہوئے باقی رقم کو بھی جلد پورا کریں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ تحریک جدید دفتر دوم کے وعدے ایک لاکھ پینتیس ہزار روپے کے تھے اور ابھی ان میں سے ۷۹ ہزار روپیہ وصول ہوا ہے گویا نصف کے قریب آمد ہوئی ہے۔یہ چیز مجھے خطر ناک نظر آتی ہے۔کیونکہ اس میں زیادہ تر ہمارے نو جوان شامل ہیں اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ نوجوان، بوڑھوں سے زیادہ قربانی کریں کیونکہ ایک تو نو جوان بوڑھوں سے زیادہ کھاتے پیتے ہیں دوسرے ان پر بیوی بچوں کی پرورش ، نوجوان بچوں کی تعلیم اور شادی کا اتنا بوجھ نہیں ہوتا جتنا بوڑھوں پر ہوتا ہے۔پس نو جوانوں کو چاہئے کہ جس طرح بھی ہو وہ زور لگا کر اس کمی کو پورا کریں خصوصاً خدام الاحمدیہ کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے اور دفتر دوم میں دفتر اول سے زیادہ چندے آنے چاہئیں۔نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ دفتر دوم کے لئے وعدہ کریں اور اگر پہلے وعدہ کم ہوا ہے تو اس میں زیادتی کریں اور پھر اسے جلد سے