انوارالعلوم (جلد 22) — Page 162
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۶۲ جلد پورا کریں۔اب تو میں نے شرائط اتنی ہلکی کر دی ہیں کہ سوائے کنگال کے ہر ایک شخص اس میں حصہ لے سکتا ہے۔ہماری جماعت لاکھوں کی ہے۔اگر اس میں سے ۶۰-۷۰ ہزار افراد بھی تحریک جدید میں حصہ لیں تو چھ لاکھ روپیہ جمع ہوسکتا ہے۔اس وقت وعدوں کی میزان ۷۲۷، ۲۷ روپے کی ہے۔پہلے ۲۰ ہزار تھی۔نو جوانوں کو فکر کرنی چاہئے اور انہیں اپنی کوششوں کو زیادہ تیز کرنا چاہئے۔اب میں دوستوں کو اِس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آنے والے ایام بہت نازک ہیں۔بہت سے کام ہمارے ذمہ ہیں۔ہم نے سکول بنانا ہے ، عورتوں کا کالج بنانا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ کالج اسی سال یعنی ۱۹۵۱ء میں ہی کھل جائے۔اس کالج کے ساتھ بورڈنگ ہاؤس بھی ہو گا۔پھر مردانہ کالج بھی یہاں لانے کی ضرورت ہے۔ہمارے مخالف حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ جس عمارت میں آجکل ہما را کالج ہے اس سے ہمیں نکال دیا جائے لیکن بجائے اس کے کہ کوئی ہمیں وہاں سے نکالے بہتر یہی ہے کہ ہم خود اُس کو چھوڑ کر یہاں آجائیں۔مومن غیرت مند ہوتا ہے۔اگر پاکستان کے بعض لوگ تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان امتیاز پیدا کرتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم بھی اُنہیں کہہ دیں کہ مُلکِ خدا تنگ نیست پائے گدا لنگ نیست‘۔ہمارے اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان خدا تعالیٰ کا ملک وسیع ہے اور فقیر کے بھی پاؤں ہیں۔اگر کسی خاص جگہ پر لوگ اُسے رہنے نہیں دیتے تو وہ دوسری جگہ پر چلا جاتا ہے اور اگر ایک فقیر اور سائل کا بھی اتنا حوصلہ ہوتا ہے کہ جب اسے ایک گھر سے دھتکارا جائے تو وہ کہتا ہے میں خدا تعالیٰ کے ملک میں رہتا ہوں اور اس کا ملک تمہارے گھر سے وسیع ہے اور پھر میرے پاؤں بھی لنگڑے نہیں۔تو الہی جماعت میں کیوں غیرت نہ ہو اُسے بھی ان لوگوں کے جواب میں یہ کہنا چاہئے کہ ملک خدا تنگ نیست پائے گدا لنگ نیست‘۔اگر لوگ ہمیں اس عمارت میں جہاں آجکل ہمارا کالج ہے نہیں رہنے دیتے تو ہم بھی اپنا کالج بنائیں گے اور کسی دوسرے کا احسان نہیں لیں گے۔یہ مالی قربانیاں ہمیں آئندہ چند سال میں کرنی پڑیں گی۔علاوہ ان عمارتوں کے