انوارالعلوم (جلد 22) — Page 159
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۵۹ ایک دوست تھے میں نے انہیں کہا آپ کو تفسیر کبیر ضرور خریدنی چاہئے لیکن اس نے کہا اگر چہ تم میرے دوست ہو لیکن پھر بھی میں احمدیوں کا لٹریچر نہیں خریدتا۔میں نے اُسے کہا تم میری خاطر تفسیر خرید لو چنانچہ اُس نے تفسیر خرید لی۔چوہدری صاحب نے بتایا کہ دوسری دفعہ جب وہ قادیان آیا تو اُس نے کہا ظفر اللہ ! تم قیمت پہلے لے لو اور آئندہ جو جلد شائع ہو وہ مجھے بھیج دو۔میں نے اُسے کہا تم تو کہتے تھے کہ میں یہ تفسیر ہر گز نہیں خریدوں گا مگر اب قیمت پیشگی جمع کرا رہے ہو۔اُس نے کہا میں پہلے کہتا تھا کہ میں نہیں خریدوں گا لیکن اب جب آپ کی وجہ سے میں نے یہ کتاب خرید لی اور اسے پڑھا تو معلوم ہوا کہ اس کا ہر مسلمان کے پاس ہونا ضروری ہے۔میں نے اکثر دیکھا ہے کہ بعض دوستوں نے اپنے غیر احمدی دوستوں کو پڑھنے کے لئے تفسیر دی اور ایک عرصہ کے بعد اُنہوں نے بجائے کتاب واپس کرنے کے قیمت دے دی۔ایک دوست نے مجھے بتایا کہ میں نے ایک دوست کو پڑھنے کے لئے تفسیر دی لیکن کچھ دنوں کے بعد انہوں نے قیمت مجھے دے دی اور کہا کہ میں یہ کتاب نہیں دوں گا۔آخر بڑی مشکل سے میں نے وہ کتاب اُن سے واپس لی۔لاہور کے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ ایک ہندو نے تفسیر کبیر خریدی ہمیں اس کتاب کی ضرورت پڑی تو ہم نے کہا چلو اس ہندو سے لے لیتے ہیں۔چنانچہ ہم اُس ہندو کے پاس گئے اور اُسے کہا کہ یہ کتاب تمہارے کام کی تو ہے نہیں ہمیں اس کی ضرورت ہے تم قیمت لے لو اور ہمیں یہ کتاب دے دو۔مگر اُس نے کہا میں کسی قیمت پر بھی یہ کتاب نہیں دیتا۔ہم نے کہا اچھا زیادہ قیمت لے لو اور کتاب دے دو لیکن وہ پھر بھی نہ مانا۔پس اس کتاب کا ہر گھر میں موجود ہونا ضروری ہے اور اسے ابھی سے خرید لینا چاہئے دیر نہیں کرنی چاہئے۔پیچھے جا کر جو پچھتانا پڑتا ہے تو تم پہلے ہی لے لو۔میں نے بعض جلد میں اپنے چھوٹے بچوں کے لئے بھی خرید رکھی ہیں تا کہ وہ بڑے ہو کر یہ نہ کہیں کہ ہمارے پاس یہ تفسیر نہیں۔آخری پارہ کی چوتھی جلد بھی جلد شروع ہو جائے گی اور ۱۹۵۱ء میں انشاء اللہ شائع ہو جائے گی۔اسی طرح انگریزی ترجمۃ القرآن کی تیسری جلد بھی ۱۹۵۱ء میں شائع